افغان طالبان کی انتہا پسند پالیسیوں کے باعث افغان شرپسند خطے اور دنیا کیلئے سنگین خطرہ بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
انقرہ (ویب ڈیسک)افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند اور شدت پسند پالیسیوں کے باعث افغان شرپسند نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر وبالِ جان بنتے جا رہے ہیں۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک پہلے ہی افغان شہریوں پر ویزہ پابندیاں عائد کر چکے ہیں جبکہ پاکستان، ایران، امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک سے لاکھوں غیرقانونی افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
افغان میڈیا ادارے خامہ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق ترکیہ نے بھی رہائشی دستاویزات نہ ہونے پر 18 افغان شہریوں کو گرفتار کر کے ڈی پورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی ترکیہ میں 42 ہزار سے زائد غیرقانونی افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق افغان شرپسندوں کی امریکہ اور دیگر ممالک سے بے دخلی کی بنیادی وجہ ان کے انتہا پسند نظریات اور شدت پسند کارروائیاں ہیں۔ گزشتہ سال واشنگٹن میں ایک افغان دہشتگرد کی فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے مرد اور خاتون اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد افغان شہریوں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے۔
اسی طرح جرمنی کے شہر میونخ میں بھی گزشتہ سال ایک افغان شرپسند نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 25 افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ یورپ میں افغان انتہا پسندوں سے جڑے خطرات کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں ایران نے بھی دراندازی کی کوشش کرنے والے متعدد افغان شرپسندوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور انتہا پسند سرگرمیوں کے باعث ایران نے لاکھوں افغان شہریوں کو ملک بدر کیا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کی آماجگاہ بن چکا ہے اور وہاں سے ہمسایہ اور دیگر ممالک میں دہشتگرد کارروائیوں کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک سے غیرقانونی افغان باشندوں کی گرفتاریوں اور ملک بدری کے اقدامات کو عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغان شہریوں انتہا پسند
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔