اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ’’واضح دستاویزی ثبوت‘‘ موجود ہیں کہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔

نجی خبررساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان سے پاکستان کیخلاف کارروائیاں کر رہی ہے، اور یہ سب افغان حکومت اور تحریکِ طالبان افغانستان کے علم میں ہے اور ان کی حمایت سے ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی حکومت کو بھی ان حقائق کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِاعلیٰ کی حیثیت سے میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔

دی نیوز نے علی امین گنڈاپور سے رابطہ کرکے یہ موقف اسلئے معلوم کیا کہ گزشتہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے متنازع طور پر کہا تھا کہ ریاست کو اس دعوے کے حق میں شواہد فراہم کرنے چاہئیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔

تاہم، سہیل آفریدی کے پیش رو، علی امین گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود ہے اور افغان طالبان کے ساتھ افغان حکومت بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مطلوبہ دہشت گردوں کی موجودگی سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں، اور افغانستان میں ان کی موجودگی ایک دستاویزی حقیقت ہے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان شہری ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد سرگرمیوں کے کئی واقعات میں افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں ہونے والے بعض خودکش حملوں میں ملوث افراد اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد افغان تھے، جبکہ بعض کا تعلق ٹی ٹی پی سے تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محض الزامات نہیں بلکہ شواہد اور سرکاری ریکارڈ سے ثابت شدہ حقائق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا معاملہ ریکارڈ پر موجود ہے، پاکستان میں دہشت گردی، بالخصوص ٹی ٹی پی کی قیادت میں ہونے والی دہشت گردی، اور افغانستان کے درمیان تعلق حقائق کی بنیاد پر ثابت ہو چکا ہے۔اس کے ساتھ ہی سابق وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ وہ ہمیشہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کے حامی رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرا مستقل مؤقف یہی ہے کہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہئے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وفاقی حکومت نے امن کی بحالی کیلئے مذاکرات کی کوششیں کیں، وفاقی حکومت نے مذاکرات کی کوشش کی، اور اب ان کوششوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم، علی امین گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی کوشش کرنا چاہئے، لیکن قومی سلامتی کو ہر صورت مقدم رکھنا چاہئے، میری رائے ہے کہ پاکستان کو افغانستان سمیت تمام ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنا چاہئیں، لیکن پاکستان کی خودمختاری اور استحکام سب سے پہلے ہے۔ ملک کی سلامتی اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انصارعباسی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا دہشت گردی کی وزیر اعلی نے کہا کہ نے اس بات انہوں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ رہی ہے

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار