Express News:
2026-07-24@00:51:30 GMT

دہشتگردی… فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT

ٹانک میں بکتر بندگاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید جب کہ بنوں، اورکزئی میں امن لشکر کے2 افراد شہید ہوئے جب کہ 5دہشت گرد ما رے گئے۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

دہشت گردی کی لہر نے ہماری قومی سلامتی، داخلی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ یہ محض چند واقعات یا الگ تھلگ حملے نہیں بلکہ ایک منظم، سوچے سمجھے اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والی جنگ ہے جس کا ہدف پاکستان کو کمزور کرنا، اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل کرنا اور قوم کو مایوسی، خوف اور انتشار میں مبتلا کرنا ہے۔

اس حقیقت سے آنکھیں چرانا اب ممکن نہیں رہا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کی سازشیں اور مکروہ عزائم کارفرما ہیں، جنھیں مختلف طریقوں اور چالاک حکمت عملیوں اور پاکستان میں موجود سہولت کاروں کے ذریعے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ افغانستان، جو دہائیوں تک پاکستان کی میزبانی، تعاون اور قربانیوں کا گواہ رہا، آج بھارت کا دوست بن کر پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان دشمن عناصر کے لیے ہونا ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔

بارہا شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے، تربیتی مراکز اور منصوبہ بندی کے مراکز افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے پاکستان میں خونریزی کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف دو ممالک کے تعلقات پر سوالیہ نشان ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔

مقامی سہولت کاروں کا کردار بھی نہایت تشویشناک ہے۔ یہ سہولت کار نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ، معلومات اور وسائل فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کے نظریات کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ خیبر پختو نخوا حکومت پر بھی یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے یا کم ازکم ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریزاں ہے، اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ نہایت خطرناک صورتحال ہے، کیونکہ ریاستی سطح پر کسی بھی قسم کی نرمی یا ابہام دہشت گردوں کے حوصلے بلند کرتا ہے۔

افغانستان کا دہشت گردوں کی آماجگاہ بن جانا محض ایک الزام نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ سرحد پار سے ہونے والی دراندازی، جدید اسلحے کی فراہمی، مالی معاونت اور رابطہ کاری کے شواہد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی خود رو یا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پراکسی وار کا حصہ ہے۔ بھارت بھی اس پراکسی جنگ کا اہم کردار ہے، جو افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔

بھارت کی یہ پالیسی نئی نہیں، بلکہ قیام پاکستان کے دن اول سے اس کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا رکھا جائے۔ 2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوشکیا، جن میں زیادہ تر شہادتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہ جنھیں شواہد کے مطابق بھارت اور افغانستان کی حمایت حاصل ہے، وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

پاکستان نے مخلصانہ طور پر افغانستان سے مذاکرات کیے لیکن مقام افسوس کہ مذاکرات کے دوران ہی افغان طالبان کی طرف سے پراکسی وار اور اسلام آباد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی مبینہ دھمکیاں دی گئی تھیں۔ برادر مسلم اسلامی ممالک ترکیہ اور قطر کے تعاون سے ہونے والے ان مذاکرات سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں ایک طرف افغان حکومت پاکستان سے مذاکرات کا ڈول ڈال رہی تھی تو دوسری طرف افغان وزیر خارجہ امیر متقی بھارت کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہے تھے جب افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کرتے رہے ۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔

کہتے ہیں کہ ’’دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے‘‘ ظاہر ہے کہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان حکومت کو بھارت کی طرف سے جو شہ ملی اور جس فوجی و مالی تعاون کی کابل حکومت کو بھارت نے یقین دہانی کروائی اس کا اثر مذاکرات کے ان تینوں ادوار پر پڑا۔ حقائق صاف بتا رہے ہیں کہ بھارت پاکستان سے انتقام لینے کی آگ میں جل رہا ہے اور ابھی وہ پاکستان پر براہ راست حملہ تو نہیں کر سکتا، لیکن وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے افغانستان کو استعمال کرنے کی سازش کر رہا ہے۔

اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں سے مزید مذاکرات کرنا اور ان کے کامیاب ہونے کی زیادہ امید رکھنا بے سود ہو گا۔ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کررہے ہیں، اس کے پیچھے بھارت کا گٹھ جوڑ شامل ہے، جس کا جواب دینے کی پاکستان کے پاس پوری قوت موجود ہے۔ بھارت اور افغانستان کے حکمرانوں کو عقل کے ناخن لینے ہوں گے اور سمجھنا پڑے گا کہ انتقام اور غصے میں عقل کام نہیں کرتی ہے۔

 درحقیقت افغانستان کو پوری دنیا جانتی ہے کہ وہاں کی حکومتیں ماضی اور حال میں کتنی قابل اعتبار رہی ہیں یا اپنی پوری تاریخ میں افغانستان کے حکمرانوں نے کس قدر دانش مندانہ فیصلے کیے ہیں؟ کسی بھی ملک سے تسلیم کیے جانے کی بجائے، دنیا بھر میں مسلسل نظر انداز ہونے والی یہ افغانستان رجیم نا صرف ہمسایہ ممالک کے لیے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا درد سر ہے، جب کہ پاکستان نہ صرف بھارت سمیت دنیا بھر میں سفارتی تعلقات رکھتا ہے، بلکہ دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی اکلوتی ’’ایٹمی پاور‘‘ بھی ہے، جس کی افواج دنیا میں اپنا لوہا بھی منوا چکی ہیں۔ اتنے صبر اور سفارتی و مصالحتی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب جب کہ پاکستان کا صبر جواب دے چکا ہے اور دوست ممالک کی مصالحتی ٹیمیں بھی طالبان کی ہٹ دھرمی کی گواہ ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان میں بھارت کی مداخلت اور تخریبی کارروائیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورکس، مقامی ایجنٹوں کی بھرتی، علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو جیسے کردار اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ بھارت کس طرح پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا مقصد صرف جان و مال کا نقصان نہیں بلکہ اس صوبے کو ترقی سے روکنا، پاک چین اقتصادی راہداری جیسے اہم منصوبوں کو سبوتاژ کرنا اور پاکستان کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اورحکومت کا کردار کلیدی ہے۔ واضح پالیسی، دو ٹوک موقف اور بلا امتیاز کارروائی کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سیاسی مصلحتیں، ووٹ بینک کی سیاست اور وقتی فائدے کے لیے دہشت گرد عناصر یا ان کے ہمدردوں سے نرمی برتنا قومی مفاد کے برعکس ہے۔ دہشت گردی چاہے کسی بھی نام، نعرے یا نظریے کے تحت ہو، وہ دہشت گردی ہی ہے اور اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔قوم کا کردار بھی اس جنگ میں انتہائی اہم ہے۔

جب تک عوام دہشت گردی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے، اس کے نظریاتی بیانیے کو چیلنج نہیں کرتے اور اپنے اردگرد موجود مشکوک عناصر پر نظر نہیں رکھتے، اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد صرف بم یا بندوق سے نہیں مارتے بلکہ وہ ذہنوں کو بھی آلودہ کرتے ہیں۔ نفرت، تعصب، عدم برداشت اور تشدد کی سوچ کو فروغ دے کر وہ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ ان نظریات کے خلاف فکری، تعلیمی اور سماجی سطح پر بھرپور جدوجہد ناگزیر ہے۔خارجہ محاذ پر بھی پاکستان کو مزید متحرک اور جارحانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور بھارت کی جانب سے ہونے والی مداخلت اور دہشت گردی کے شواہد کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔

محض بیانات کافی نہیں، بلکہ ٹھوس اقدامات، عالمی فورمز پر آواز بلند کرنا اور دوست ممالک کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ پاکستان ایک ذمے دار ریاست ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کرے اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرے۔ یہ جنگ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ریاست، حکومت، ادارے اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف کوئی ابہام، کوئی نرمی اور کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

دشمن چاہے سرحد کے اُس پار ہو یا ہمارے درمیان چھپا بیٹھا ہو، اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہی ہماری بقا، ہماری خود مختاری اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، اگر ہم نے اس موقع پر درست فیصلے کر لیے تو تاریخ ہمیں ایک زندہ، باوقار اور مضبوط قوم کے طور پر یاد رکھے گی، ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے پاکستان میں پاکستان کے پاکستان کو کہ پاکستان نہیں بلکہ ہونے والی کرتے ہیں کرنا اور ہیں بلکہ بھارت کی نے والی کے خلاف نہیں کر کے لیے اور اس رہا ہے ہے اور ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار