ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران لندن میں قتل اہم کیو ایم رہنما عمران فاروق کے کیس کا تذکرہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران لندن میں قتل اہم کیو ایم رہنما عمران فاروق کے کیس کا تذکرہ کیا گیا۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، حقیقیت یہ ہے تفتیش کا عمل کافی سست ہے اور ہم کسی پر الزام نہیں دینا چاہتے کہ فلاں کا قصور ہے۔
وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ سو موٹو کی بنیاد پر کمیشن بنا اور تفتیش ابھی تک چل رہی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں ابھی تک کیا ہوچکا ہے، وکیل بیوہ ارشد شریف نے جواب دیا کہ ہم نے کینیا میں کیس کیا تھا اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا، ہم نے کینیا کی عدالت سے ایکسیڈنٹ سے قتل کا وقوعہ بنانے کی استدعا کی تھی، کینیا کی عدالت نے ہماری استدعا منظور کرکے تفتیش کا حکم دے دیا تھا۔
وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ ابھی تک کینیا کی تفتیش میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، ہماری پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے اور اس عدالت میں آنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ کھڑی ہو ، حکومت اور ہمارے اپروچ کرنے میں فرق ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی عامر رحمان نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی ، شروع میں کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کردیا تھا ، گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے ہوا، مزید تفتیش کے لیے اب جب کینیا حکومت جب ہمیں کہے گی ہم اپنی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی سے استفسار کیا کہ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم اس کیس میں کیا کرسکتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی نے جواب دیا کہ جائے وقوعہ پر جائیں گے ، کینیا حکومت جو شواہد دے گی۔
دوران سماعت عمران فاروق قتل کیس کا تذکرہ ہوا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یاد ہوگا کہ عمران فاروق قتل بھی انگلینڈ میں ہوا تھا، انگلینڈ میں تفتیش ہوئی ، انگلینڈ پولیس کے ساتھ پاکستان پولیس نے مل کر تفتیش کی۔
ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کی نوعیت تبدیل ہے، ہم نے چالان جمع کروا دیا ہے دو ملزمان کو نامزد کردیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں گرفتار ہیں، ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ نہیں وہ اس وقت کینیا میں ہیں ہم نے ان کے بلیک وارنٹ جاری کردیے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق کا استفسار نے کہا کہ اب ان کو انٹر پول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ جی انٹر پول کو لکھا ہوا ہے ، اس وقت پاکستان میں تفتیش مکمل ہوچکی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا ہے، پوری کوشش ہے کہ جلد سے جلد تفتیش مکمل کرلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس عامر فاروق ایڈیشنل اٹارنی عمران فاروق ارشد شریف کینیا میں نے کہا کہ قتل کی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔