صنعتوں پر کیپٹو ٹیرف غیر آئینی قرار، سندھ ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے صنعتوں پر عائد کیے گئے کیپٹو ٹیرف کے خلاف دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے کیپٹو ٹیرف کے اطلاق کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق عدالت میں دائردرخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیاتھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے فروری 2025 میں صنعتوں پر کیپٹو ٹیرف نافذ کیا،جس کے باعث صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا اور صنعتوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کیپٹو ٹیرف کی مد میں اب تک صنعتوں سے وصول کی گئی رقوم کو آئندہ آنے والے گیس بلوں میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ عدالت نے اپنےفیصلے میں قرار دیا کہ صنعتوں پر کیپٹو ٹیرف کا نفاذ آئین اور قانون کے منافی ہے۔
خصوصی ناکہ لگا کر مجھ سے رشوت طلب کی گئی، اسلام آباد پولیس پر فرخ کھوکھر کے سنگین الزامات
درخواست گزار صنعتوں نےمؤقف اختیارکیا کہ کیپٹو ٹیرف کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور پیداواری لاگت میں اضافے کے نتیجےمیں برآمدات اور روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔عدالت کے اس فیصلے کو صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کیپٹو ٹیرف صنعتوں پر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔