چین اور پاکستان کی لازوال دوستی کا عملی مظاہرہ، جدہ میں چینی ٹرک معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
چین اور پاکستان کی لازوال دوستی کا عملی مظاہرہ، جدہ میں چینی ٹرک معاہدہ طے پا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
جدہ ( خالد نواز چیمہ)
چین اور پاکستان کی عظیم دوستی صرف پاکستان میں نہیں بیرون ملک بھی یہ دونو ں ممالک اس لازوال دوستی کو آہم سمجھتے ہیں اور عملیُ مظاہرہ بھی کرتے ہیں
یہ بات جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے پاکستانی انویسٹر ممتاز احمد کاہلوں اور عبدالرحمان کاہلون کے ادارے کا چین کے بنے ٹرکُ کے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ پاک چائنا دوستی کا مظاہرہ پاکستانی انویسٹر ممتاز کاہلون اور انکے ادارے سٹی لنک نے کیا ہے قونصلیٹ اپنے انوسٹرز کا احترام کرتا ہے اور میری جانب سے ہر انوسٹر جو پاکستان کی ترقی کیلئے کام کررہا ہے بھر پور تعاون حاصلُ ہوگا
پروقار تقریب میں چینی سفارت خانے کے سفارت کار بھیُ موجود تھے سٹی لنک کے سی ای او عبدالرحمان کاہلوں نے نے ادارے کا تعارف پیش کیا چینی سفارت کار نے چینی ٹرک کے معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہُ چینی آشیاء اپنےُکارکردگی کے حوالے سے کاروباری دنیا میں نام پیدا کررہی ہیں ُتقریب میں موجود سعودی اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو تحائف دیے گئے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمنی لانڈرنگ کیسز: سزاؤں پر عمل درآمد تیز کرنے کیلئے ایف آئی اے کی دو خصوصی ٹیمیں قائم منی لانڈرنگ کیسز: سزاؤں پر عمل درآمد تیز کرنے کیلئے ایف آئی اے کی دو خصوصی ٹیمیں قائم سچ ہے کچھ فرمز ملک سے جا رہی ہیں، تسلیم کرنا ہوگا ٹیکس، انرجی قیمت زیادہ ہے: وزیر خزانہ صدر مملکت بحرین کے 4 روزہ سرکاری دورے پر منامہ پہنچ گئے ٹرمپ کا سپریم کورٹ کو ٹیرف کے معاملے پر انتباہ: فیصلہ خلاف آیا تو اربوں ڈالر کی ادائیگیاں ناممکن ہوں گی جنگ کے دوران پاکستان کے پاس تمام معلومات تھیں کہ ہمارا کون سا جہاز، طیارہ اور یونٹ کہاں ہے‘؟ بھارتی آرمی چیف کا اعتراف نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی مینمار کے وزیر خارجہ، ایچ ای یو تھان سوی سے گفتگوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور پاکستان پاکستان کی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔