جسٹس علی ضیاء ناجوہ نے پرویز الہیٰ ایڈووکیٹ کی درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور بتایا کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اہم معاملہ ہونے کے باوجود کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ درخواست میں اٹھائے گئے نقاط اہم نوعیت کے ہیں لہذا درخواست ریگولر کارروائی کیلئے منظور کی جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے ججز کیخلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیخلاف کارروائی سے متعلق درخواست کا تحریری حکم جاری کر دیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں ملوث پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء ناجوہ نے پرویز الہیٰ ایڈووکیٹ کی درخواست پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور بتایا کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اہم معاملہ ہونے کے باوجود کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ درخواست میں اٹھائے گئے نقاط اہم نوعیت کے ہیں لہذا درخواست ریگولر کارروائی کیلئے منظور کی جاتی ہے۔

تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ کسی انفرادی شخص کو حق نہیں آزاد اظہار کے نام پر عدلیہ کو سکینڈلائز کرے، قانون ایسے کرداروں کے خلاف کارروائی کی اجازت دیتا ہے، آئین میں عدلیہ کے احترام کو بہت اہمیت حاصل ہے، اگر کوئی فرد عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے اور جھوٹے پروپیگنڈے میں پایا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی این سی سی آئی اے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے میں ملوث تمام افراد کی نشاہدہی کرکے رپورٹ فائل کریں اور آئندہ سماعت پر پیش ہو کر بتائیں کہ سائبر پولیس نے کارروائی کیوں نہ کی چیئرمین پی ٹی اے بھی آئندہ سماعت پر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔تحریری حکم میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت ایسے اقدامات کی سپورٹ نہیں کرتی ہے، درخواست پر مزید کارروائی پندرہ جنوری کو ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا میں کہا گیا ہے کہ درخواست حکم میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کارروائی کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ