سندھ ہائیکورٹ میں حکومتِ سندھ کے خلاف دائر ایک آئینی درخواست میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے ذریعے عوام پر ’ناقابل برداشت مالی بوجھ‘ ڈالنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

اشفاق علی پنہور ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر اس درخواست میں حکومتِ سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے لیے غیر قانونی، غیر شفاف، ضرورت سے زیادہ اور من مانے ملکی و غیر ملکی قرضوں کے حصول، ان کے مبینہ غلط استعمال، بدانتظامی، منصوبوں کی تکمیل میں ناکامی اور عوام پر ناقابلِ برداشت مالی بوجھ ڈالنے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ریڈ لائن، یلو لائن، گرین لائن، اورنج لائن اور پیپلز بس سروس کے منصوبوں کے لیے حکومتِ سندھ نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دیگر ذرائع سے بھاری غیر ملکی اور ملکی قرضے حاصل کیے۔

جن کی مجموعی مالیت 600 ملین امریکی ڈالر سے زائد بنتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 170 سے 200 ارب روپے کے برابر ہے۔ ان قرضوں کی تفصیلات کبھی بھی شفاف انداز میں عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔

’یہ قرضے گرانٹ نہیں بلکہ سود پر حاصل کیے گئے ہیں، جن کی ادائیگی بالآخر ٹیکسوں میں اضافے، عوامی سہولیات میں کمی اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی صورت میں سندھ کے عوام پر ڈال دی جاتی ہے۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بسیں چلانا بنیادی طور پر ایک تجارتی اور نجی معاشی سرگرمی ہے اور اگر حکومت قرضوں سے چلنے والے منصوبوں کے ذریعے اس شعبے میں اجارہ داری قائم کرتی ہے تو یہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت شہریوں کے روزگار اور کاروبار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

’اس پالیسی کے نتیجے میں چھوٹے ٹرانسپورٹرز اور نجی کاروباری افراد متاثر ہو رہے ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔‘

درخواست گزار کے مطابق اس پورے نظام سے ٹھیکیداروں، مشیروں اور چند سرکاری عہدیداروں کو فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ عام شہری نہ مناسب سفری سہولت حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی معاشی ریلیف ان کا مقدر بنتا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جوابدہندگان کے یہ اقدامات آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہیں، جو قانون کے مطابق سلوک کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

’شفافیت اور جوابدہی کے بغیر من مانے قرضے لینا آرٹیکل 9 اور 23 کے بھی منافی ہے، کیونکہ اس سے عوام کے معاشی تحفظ اور جائیداد کے حقوق کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔‘

درخواست گزار کے مطابق قرضوں کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اجارہ داری قائم کرنا آرٹیکل 18 کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ عوامی فنڈز کا مبینہ غلط استعمال پبلک ٹرسٹ اور گڈ گورننس کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

’بھاری قرضوں کے باوجود منصوبوں کی تکمیل میں ناکامی کو غیر قانونی، غیر آئینی اور عدالتی نظرِثانی کے قابل قرار دیا گیا ہے۔‘

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ قرار دے کہ شفافیت، جوابدہی اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کے بغیر بی آر ٹی اور ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے لیے قرض لینا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

درخواست مین استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت دے کہ حاصل کیے گئے تمام قرضوں کی مکمل تفصیلات، بشمول رقم، شرحِ سود، ادائیگی کا شیڈول اور فنڈز کے استعمال کی تفصیل، ریکارڈ پر پیش کی جائیں۔

’فنڈز کے استعمال، بسوں کی خریداری اور دیے گئے ٹھیکوں کی آزادانہ آڈٹ اور انکوائری کا حکم دیا جائے، جبکہ مکمل شفافیت یقینی بننے تک مزید قرض لینے سے روکا جائے۔‘

درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ حکومت بسوں کی خریداری، قرض کی رقم اور بسوں کی روزانہ آمدنی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائے۔

اس آئینی درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں 20 جنوری کو مقرر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئین آئینی درخواست اشفاق علی پنہور امریکی ڈالر بی آر ٹی سندھ حکومت شرح سود فنڈز ماس ٹرانزٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئینی درخواست اشفاق علی پنہور امریکی ڈالر بی ا ر ٹی سندھ حکومت منصوبوں کے لیے درخواست گزار درخواست میں گیا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے