Nawaiwaqt:
2026-06-02@23:37:31 GMT

پی ٹی آئی 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال واپس لے، ناصر شاہ

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

پی ٹی آئی 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال واپس لے، ناصر شاہ

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے تحریک انصاف سے 8 فروری کی پہیہ جام ہڑتال واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کورنگی میں تقریب سے خطاب میں ناصر شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف پہیہ جام ہڑتال کی کال واپس لے، ہم انتشار اور فسادات کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے پھر 9 مئی سانحہ دہرانا چاہتے ہیں، ہڑتال کی کال سے ان کے اپنےکارکن مشکل میں آئیں گے، پاکستان تحریک انصاف کو اب پی ٹی آئی پی بنا دیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تمام پروٹوکول سندھ حکومت نے دیا، سہیل آفریدی نے جہاں جہاں جانا چاہا انھیں وہاں لے جایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ باغ جناح میں انہیں جلسے کی اجازت مل گئی تھی، ان کے جلسے کی وجہ سے کراچی میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔

ناصر شاہ نے یہ بھی کہا کہ نئے صوبوں کی بات کرنے والے محض شوشہ چھوڑتے ہیں، سندھ کسی صورت تقسیم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس نادرا سینٹر سے ہزاروں لوگ مستفید ہوں گے، کارڈز کا حصول عوام کےلیے مشکل مرحلہ بنا ہوا ہے۔

وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نےکورنگی میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا ہے، سندھ حکومت نے خواتین کو پنک اسکوٹی دی اور تربیت بھی دے رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود