پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر فروخت کے دباؤ کا رجحان دیکھا گیا، جس کے باعث 100 انڈیکس ابتدائی لمحات میں تقریباً 600 پوائنٹس کی کمی کا شکار ہو گیا۔

دن 12 بج کر 10 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 183,628.84 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 322.66 پوائنٹس یا 0.18 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ مختلف اہم شعبوں میں نمایاں رہا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس اور فرٹیلائزر سیکٹر شامل ہیں۔

انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص، جن میں پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی شامل ہیں، مندی کا شکار رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -497.

14 points (-0.27%) at midday trading. Index is at 183,454.37 and volume so far is 230.78 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/k8KKNPZNSv

— Investify Pakistan (@investifypk) January 14, 2026

دوسری جانب عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ ’گلوبل اکنامک پراسپیکٹس‘ میں کہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو مالی سال 26-2025 میں 3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو مالی سال 2026-27 میں بڑھ کر 3.4 فیصد ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ زرعی پیداوار میں بہتری اور 2025 کے سیلاب کے بعد تعمیرِ نو کی سرگرمیوں کے باعث متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: فروخت کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں، انڈیکس میں 890 پوائنٹس کی کمی

تاہم عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مالی سال 27-2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ درآمدی طلب میں اضافہ اور سیلاب کے بعد ترسیلاتِ زر میں معمول پر آنے کا عمل ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ منگل کے روز پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست بحالی دیکھنے میں آئی تھی، جب سرمایہ کاروں کی جانب سے دوبارہ خریداری کے رجحان کے باعث پیر کے نقصانات کا بڑا حصہ پورا ہو گیا۔

مزید پڑھیں: یو بی ایل سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی بن گئی، اسٹاک ایکسچینج 186000 پوائنٹس کی نئی بلندی پر

کے ایس ای 100 انڈیکس منگل کو 1,567.36 پوائنٹس یعنی 0.86 فیصد اضافے کے ساتھ 183,951.51 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی منڈیوں میں بدھ کے روز ایشیائی اسٹاکس میں تیزی دیکھی گئی، جس کی قیادت جاپانی شیئرز نے کی۔

سرمایہ کار جاپان میں متوقع اچانک انتخابات کے پیش نظر ممکنہ مالیاتی محرکات کے لیے تیار دکھائی دیے۔

اس دوران مرکزی بینکوں کی خودمختاری سے متعلق خدشات اور امریکا میں مہنگائی کے نسبتاً نرم اعداد و شمار کے باعث کرنسی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ رہا۔

مزید پڑھیں: بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معیشت کو دباؤ کا سامنا

عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

یہ صورتحال اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔

مزید پڑھیں: 2025-26 کی پہلی سہ ماہی، ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا کیوں؟ احسن قبال نے بتادیا

اس پر ایران نے صدر ٹرمپ پر سیاسی عدم استحکام کو ہوا دینے اور تشدد پر اکسانے کا الزام عائد کیا۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک خطے کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ منگل کو قائم ہونے والی ریکارڈ سطح سے معمولی نیچے رہا۔

ادھر امریکا میں رات گئے اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار رہیں، جہاں جے پی مورگن کے عہدیداروں کے بیانات کے بعد مالیاتی شعبے کے حصص میں کمی دیکھی گئی۔

یہ خدشات امریکی صدر کی جانب سے کریڈٹ کارڈ شرح سود پر حد مقرر کرنے کی تجویز کے باعث پیدا ہوئے۔

مزید پڑھیں: سال 2025 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے کیسا رہا اور 2026 میں کیا رجحان رہے گا؟

چین میں ابتدائی کاروبار کے دوران اسٹاکس 0.7 فیصد بڑھے اور منگل کو قائم ہونے والی دس سالہ بلند ترین سطح کے قریب رہے، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو یورپ میں محتاط آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹو موبائل اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ایران پاکستان جاپان سیمنٹ شرح نمو صدر ٹرمپ فوجی فرٹیلائزر قومی پیداوار کرنٹ اکاؤنٹ کمرشل بینکس گلوبل اکنامک پراسپیکٹس مہنگائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آٹو موبائل اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ایران پاکستان جاپان فوجی فرٹیلائزر قومی پیداوار کرنٹ اکاؤنٹ مہنگائی

پڑھیں:

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی

محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف