دھرو راٹھی اور پاکستانی ڈیجیٹل ایکسپرٹ کی ملاقات، ’آپریشن سندور‘ پر بحث تازہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
معروف بھارتی یوٹیوبر اور سوشل میڈیا تجزیہ کار دھرو راٹھی کی دبئی میں ایک پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹر سے ملاقات نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کرلی ہے۔
یہ ملاقات اس وقت وائرل ہوئی جب پاکستانی ڈیجیٹل مارکیٹر ثوبان طارق نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ دھرو راٹھی سے مصافحہ کرتے اور ان کے کام کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو میں ثوبان طارق گفتگو کے دوران ایک حساس اور متنازع سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان جیسے کئی لوگ دھرو راٹھی کی ویڈیوز شوق سے دیکھتے ہیں، تاہم ’آپریشن سندور‘ کے بعد بنائی گئی ایک ویڈیو پر انہیں تحفظات ہیں۔
ثوبان کے مطابق اس ویڈیو میں دیے گئے حوالہ جات زیادہ تر انڈین میڈیا پر مبنی تھے، جس سے یہ تاثر ملا کہ شاید وہ ویڈیو عجلت میں تیار کی گئی تھی۔
ثوبان طارق نے اسی سلسلے میں ایک اور ویڈیو کا حوالہ بھی دیا، جس میں دھرو راٹھی نے انڈین میڈیا کی اس رپورٹنگ کا ذکر کیا تھا جس میں کراچی بندرگاہ پر قبضے جیسے دعوے کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا یہ مواد بھی بغیر مکمل تصدیق کے پیش کیا گیا تھا۔
اس پر دھرو راٹھی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ انڈین میڈیا، خاص طور پر نیوز چینلز پر تنقید کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اخبارات میں شائع ہونے والی ہر خبر کو یکسر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے اس جواب پر ویڈیو دیکھنے والوں کی آرا واضح طور پر منقسم نظر آئیں۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے رائے دی کہ دھرو راٹھی سوال کا واضح اور تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ اس ردعمل کے بعد ثوبان طارق نے ایک اور ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ سوال کسی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ بطور پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا تھا، مگر جواب ان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔
کچھ صارفین کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ ثوبان طارق کو گفتگو میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ اس پر وضاحت دیتے ہوئے ثوبان کا کہنا تھا کہ اختلاف کے باوجود شائستگی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ سامنے والا شخص ایک مخالف ملک سے تعلق رکھتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بدتمیزی یا جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے۔
یہ بحث ایک بار پھر اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود کشیدگی کے دوران بعض انڈین میڈیا چینلز نے مبینہ طور پر من گھڑت اور غیر مصدقہ خبریں نشر کی تھیں۔ اس دوران اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ سمیت کئی پاکستانی شہروں پر قبضے کے دعوے کیے گئے، جو بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوئے۔
دھرو راٹھی بھارت کے معروف یوٹیوبر، سوشل میڈیا انفلوئینسر اور سیاسی و سماجی تجزیہ کار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ پیچیدہ سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی موضوعات کو سادہ اور مدلل انداز میں پیش کرنے کی وجہ سے نوجوان طبقے میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے سبسکرائبرز کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے، جبکہ ان کا مواد انڈین سیاست، حکومتی پالیسیوں، جمہوریت، معیشت اور فیک نیوز جیسے موضوعات کے گرد گھومتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیک وقت پذیرائی اور تنقید دونوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انڈین میڈیا سوشل میڈیا دھرو راٹھی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔