اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اہم فیصلے: دفاع کیلیے 5 ارب روپے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاع، ترقیاتی منصوبوں، آئی ٹی انفرا اسٹرکچر اور سماجی بہبود سے متعلق اہم فیصلے کرتے ہوئے مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں دفاعی خدمات کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے سے زائد کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی، جو استعداد کار میں اضافے، انفر ااسٹرکچر کی بہتری، کمیونٹی انگیجمنٹ اور سائبر سیکورٹی اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یہ رقم مرحلہ وار جاری کی جائے گی اور آئندہ مالی سال سے دفاعی اخراجات کو باقاعدہ بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔
ای سی سی نے پنجاب میں سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب روپے کی گرانٹ کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد صوبے میں سماجی اور ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی تعلیم کے فروغ کے لیے بھی اہم فیصلہ کیا گیا اور آٹزم کے شکار بچوں کی سہولت کے لیے درجنوں کوسٹر بسیں فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سمریوں پر غور کرتے ہوئے اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کے قیام کے لیے بھی خطیر رقم منظور کی گئی، جس سے شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ میسر آ سکیں گی۔ ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی، ای گورننس اور آئی ٹی انفر ااسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے۔
ای سی سی نے ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام سے متعلق تجویز پر بھی غور کیا اور مرحلہ وار فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں پیٹرولیم شعبے اور توانائی سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو سفارشات تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر فلم اور ڈراما انڈسٹری کے فروغ کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد معیاری اسکرین مواد کے ذریعے قومی بیانیے کو مضبوط بنانا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ تمام فنڈز کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی منظوری کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔