دریائے کرم پر اہم رابطہ پل بارودی مواد سے تباہ، لاکھوں افراد کا زمینی رابطہ منقطع
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ میں دریائے کرم پر قائم ایک اہم اہل رابطہ پل کو نامعلوم افراد نے بارودی مواد کے ذریعے اُڑا دیا، جس کے نتیجے میں پل مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور علاقے کا میران شاہ سمیت دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
زرایع کے مطابق نامعلوم عناصر نے رات گئے پل کے نیچے بارودی مواد نصب کیا، جس کے بعد زور دار دھماکے سے پل زمین بوس ہوگیا۔ پل کی تباہی کے باعث لاکھوں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ آمد و رفت کا اہم ذریعہ بھی بند ہو چکا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پل نہ صرف عوامی نقل و حرکت بلکہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا، اور اس کی تباہی سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ اہلیانِ علاقہ نے اس بزدلانہ اور گھناؤنے فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔