بہاولپور: ہیٹر سے آگ لگنے کے واقعات، میاں بیوی سمیت 3 افراد جھلس کر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
( ویب ڈیسک )بہاولپور میں آگ لگنے کے دو مختلف واقعات میں میاں بیوی سمیت 3 افراد جُھلس کرجاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق حاصل پور میں گھر میں سردی سے بچنے کے لیے چلائے گئے ہیٹر سے آگ لگی جس کے باعث کمرے میں سوئے ہوئے بزرگ میاں بیوی آگ سے جھلسنے اور دھوئیں سے دم گھٹنے سے موت کے منہ میں چلے گئے۔
دھر خانقاہ شریف میں 50 سالہ موٹر مکینک دکان میں چلائے گئے ہیٹر سے لگنے والی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہو گیا۔
سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد
اس کے علاوہ سرگودھا میں محمدی کالونی ہاتھی چوک میں گیس لیکج سےگھر میں آگ لگنے سے7 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔
حافظ آباد میں گیس لیکج کے باعث دھماکے سے 2 منزلہ گھر کی چھتیں گرگئی جس سے 3 افراد زخمی ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔