---فائل فوٹو 

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ اوپن اسکائی پالیسی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو تاریخی نقصان ہوا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن پر بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے، پی پی نے نجکاری کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق بار بار نجکاری کا نعرہ لگانے کے بجائے نجی شعبے کی شراکت کے ساتھ چلانے کا منصوبہ بنائے، حکومت اہم ادارے کی نجکاری کرے اور اثاثوں اور ملازمین کا تحفظ نہ ہو، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل ہونا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کامیابی سے سندھ میں چل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے نجکاری کے عمل کو سنجیدگی سے دیکھا ہے، قومی ایئرلائن کی نجکاری کرتے ہوئے ملازمین اور اثاثوں کا خیال رکھنا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک ماڈل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ خزانہ نے کئی بار تسلیم کیا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ ماڈل اچھا ہے اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم کابینہ کو ہدایت کریں کہ جو ادارے حکومت نہیں چلا سکتی انہیں شراکت سے چلانا چاہیے۔

پائلٹس کے جعلی لائسنس کے بیان پر قائم ہوں، غلام سرور خان

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک تھے، لائسنس سے متعلق میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ غلام سرور کے بیان سے گزشتہ 4 سال میں قومی ایئرلائن کو 600 ملین ڈالر نقصان ہوا، غلام سرور کی وجہ سے نقصان کی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، اس بیان سے پائلٹس سمیت عملے کی نوکریاں چھن گئیں، قومی ایئرلائن کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کرنا چاہیے، قومی ایئرلائن کو نقصان پہنچا کر نجکاری کی راہ ہموار کی گئی، قومی ایئرلائن کے نقصانات پر تحقیقات کریں، نجکاری حل نہیں۔

شازیہ مری نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی عمارتیں اربوں کی ہیں، دس ارب روپے میں پی آئی اے کا سودا ہوا، 135 ارب کی فروخت بتائی گی، قومی ایئرلائن کے منافع کی نجکاری جبکہ نقصان حکومت کو دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں درختوں کو کاٹا جا رہا ہے، درختوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی آ رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے سیلاب آئے، موسمیاتی تبدیلی کے نقصان کا ازالہ پاکستان کر رہا ہے۔

رہنما پی پی نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے، ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب دیکھ رہے ہیں، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، 30 ہزار کے قریب درخت کاٹے گئے ہیں، تمام پارلیمنٹیرین کو تحفظات تھے، پی پی نے درختوں کی کٹائی کا معاملہ ایوان میں اٹھایا ہے۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے ایسے جواب دیے کہ نئے سوال پیدا ہو گئے، درختوں کی کٹائی ایسا عمل ہے جو شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ کتنے درخت لگائے گئے، ہمیں درخت کٹتے نظر آرہے ہیں مگر لگنے والے درخت نظر نہیں آرہے، اگر شفافیت ہے وہ شئیر کریں اور بتائیں، ہر بات پر پریس کانفرنس ہو جاتی ہے، کیوں درختوں کی کٹائی پر بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، سانگھڑ میں 20 ، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، آپ جو ناجائز بلنگ کر رہے ہیں وہ کون سا قانونی ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ سردی میں بجلی کی صورتحال یہ ہے گرمیوں میں کیا صورتحال ہوگی، گرمیوں میں آپ لوگوں کی چینخیں نکال دیں گے، گیس کی بھی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، 70 فیصد گیس سندھ سے پیدا ہو رہی ہے، بلوچستان کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے اب سندھ کا یہ حال کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کیوں امپورٹڈ گیس استعمال کرے؟ سب سے پہلا حق اس علاقے کے رہنے والے لوگوں کا ہے جہاں سے گیس نکل رہی ہے، کراچی میں بھی گیس نہیں ہے، دیہی علاقوں کا آپ سوچ سکتے ہیں کیا صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ نوٹس لیں، حکومت نے وعدہ کیا تھا قانون سازی کے لیے اعتماد میں لیا جائے گا۔ صدر مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ہونا کریمنل اقدام ہے۔ آرڈیننس سے متعلق ہم سے مشورہ کیا جائے، وفاقی وزیرقانون کو اپنے بارے میں خود سوچنا چاہیے، دو دو وزیر وزارتیں سنبھال رہے ہیں، نہیں بتا رہے کہ مسئلہ کیا ہے؟

شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ کسی قانون سازی میں اپوزیشن اپنا کام نہیں کر رہی، اپوزیشن صرف شور شرابا کرنے میں مصروف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: قومی ایئرلائن کو شازیہ مری نے کہا درختوں کی کٹائی کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ غلام سرور ہو رہی ہے نے کہا کہ کی وجہ سے انہوں نے رہے ہیں

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟