لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل پر فیصلہ سنادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے 4 سال بعد مجرم الفت کی سزا کالعدم قرار دے کر بری کردیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں بہت سے نقائص ہیں، پراسیکیوشن وقوعہ کو تاخیر سے رپورٹ کرنے پر عدالت کو مطمئن نہیں کرسکی۔
لاہور ہائی کورٹ نے تہرے قتل کے الزام میں 3 بار سزائے موت کےخلاف ملزم کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وقوعہ دو گھنٹے کی تاخیر سے رپورٹ ہوا جبکہ موٹرسائیکل اور اسپتال لے جانے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ 9 گھنٹے کی تاخیر سے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
مجرم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا، ٹرائل کورٹ نے 2022 میں مجرم کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قتل کے الزام میں سزائے موت
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔