لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل پر فیصلہ سنادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے 4 سال بعد مجرم الفت کی سزا کالعدم قرار دے کر بری کردیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن کے کیس میں بہت سے نقائص ہیں، پراسیکیوشن وقوعہ کو تاخیر سے رپورٹ کرنے پر عدالت کو مطمئن نہیں کرسکی۔
لاہور ہائی کورٹ نے تہرے قتل کے الزام میں 3 بار سزائے موت کےخلاف ملزم کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وقوعہ دو گھنٹے کی تاخیر سے رپورٹ ہوا جبکہ موٹرسائیکل اور اسپتال لے جانے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ 9 گھنٹے کی تاخیر سے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
مجرم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا، ٹرائل کورٹ نے 2022 میں مجرم کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قتل کے الزام میں سزائے موت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔