کراچی میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جلد بڑا پیکج لایا جا رہا ہے: میئر مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام نے پیپلز پارٹی کو موقع دیا ہے اور اب شہر میں اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں دن رات ترقیاتی کام جاری ہیں اور مختلف رکے ہوئے منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔
میئر کراچی نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کراچی کے لیے ایک بڑا ترقیاتی پیکج متعارف کرایا جائے گا، جس سے شہری سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سندھ حکومت مل کر شہر کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہیں، جبکہ ٹاؤن انتظامیہ کو بھی اس عمل میں بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔
مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی کام مرحلہ وار مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ روزمرہ زندگی کم سے کم متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ شہر کی تمام اہم شاہراہوں کو مرحلہ وار بہتر بنایا جائے گا۔ جہانگیر روڈ کی تعمیر و بحالی سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کو آمد و رفت میں بھی سہولت ملے گی۔ ان کے مطابق جہانگیر روڈ کی بحالی کراچی کی مجموعی ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ اگر عوام اعتماد برقرار رکھیں تو آنے والے وقت میں کراچی میں مزید نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی اور شہر کو ایک منظم، بہتر اور ترقی یافتہ شکل دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔