بنگلہ دیش میں انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، شیڈول میں تبدیلی نہیں، چیف ایڈوائزر محمد یونس
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات اور ریفرنڈم مقررہ شیڈول کے مطابق 12 فروری کو ہی منعقد ہوں گے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
یہ بات انہوں نے منگل کی شام اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جامونا میں امریکی سابق سفارت کاروں البرٹ گومبس اور مورس ٹین سے ملاقات کے دوران کہی۔ پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے غلط معلومات اور دانستہ گمراہ کن مہم پھیلائی جا رہی ہے، تاہم عبوری حکومت اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
یہ بھی پڑھیے: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور
ان کا کہنا تھا کہ ‘کوئی کچھ بھی کہے، انتخابات 12 فروری کو ہی ہوں گے، نہ ایک دن پہلے اور نہ ایک دن بعد’۔ انہوں نے مزید کہا کہ نتائج کے اعلان کے فوراً بعد اقتدار منتخب جمہوری حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔
چیف ایڈوائزر نے امریکی سفارت کاروں کو یقین دلایا کہ انتخابات آزاد، منصفانہ، پُرامن اور خوشگوار ماحول میں ہوں گے، جبکہ عبوری حکومت مکمل غیر جانبداری اختیار کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں مواقع یقینی بنائے گی۔
البرٹ گومبس اور مورس ٹین انتخابات سے قبل بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں تاکہ انتخابی ماحول کا جائزہ لے سکیں۔ چیف ایڈوائزر کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات میں آئندہ انتخابات، جولائی کی عوامی تحریک اور اس کے بعد کی صورتحال، نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی تحریکیں، جولائی چارٹر اور ریفرنڈم، جعلی خبروں کا پھیلاؤ، روہنگیا بحران اور جولائی کے بعد ممکنہ ’سچ اور مفاہمت‘ کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت
پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ عبوری حکومت ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کے ووٹ کی حمایت کر رہی ہے، کیونکہ جولائی چارٹر کی عوامی توثیق جمہوری طرزِ حکمرانی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی اور مستقبل میں آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ’فاشسٹ‘ حکومت کے حامی انتخابات کے حوالے سے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں تاکہ کنفیوژن پیدا کی جا سکے، تاہم انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ اب اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔
البرٹ گومبس نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جعلی خبریں دنیا بھر میں جمہوریت کی بڑی دشمنوں میں شامل ہیں اور ان کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
امریکی سفارت کاروں نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران بنگلہ دیش کو سنبھالنے پر پروفیسر محمد یونس کے کردار کو سراہا اور سوال کیا کہ آیا بنگلہ دیش جنوبی افریقہ کی طرز پر ’ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن‘ کے عمل پر غور کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: فوجی تحویل میں بی این پی کارکن ہلاک، اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم
اس پر پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ وہ نیلسن منڈیلا کے قریبی دوست رہے ہیں اور جنوبی افریقہ کے مفاہمتی عمل کا قریب سے مشاہدہ کر چکے ہیں، تاہم بنگلہ دیش میں فی الحال ایسا عمل ممکن نہیں کیونکہ ماضی کے جرائم کے ذمہ دار افراد اپنے اعمال تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘سچ اور مفاہمت کا آغاز اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب مجرم اپنے جرم کا اعتراف کریں اور ندامت کا اظہار کریں، لیکن اس وقت شواہد کے باوجود نہ اعتراف ہے اور نہ پچھتاوا’۔
اس ملاقات میں ایس ڈی جی کوآرڈینیٹر اور سینئر سیکرٹری لامیہ مرشد بھی موجود تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا ووٹنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا ووٹنگ پروفیسر محمد یونس نے چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش نے کہا کہ انہوں نے کے لیے ہوں گے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔