اڈیالہ جیل زمان پارک یا پاکپتن کے پیرخانے کی طرح نہیں، عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کو جواب
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کسی زمان پارک یا پاکپتن کے پیر خانے کی طرح نہیں ہے۔
پی ٹی آئی پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہاکہ پولیس ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، لیکن کچھ عناصر خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، علیمہ خان کا اڈیالہ جیل کے باہر دعاؤں کے اہتمام کا اعلان
انہوں نے واضح کیاکہ اڈیالہ جیل میں ہر ہفتے غیر متعلقہ افراد کے ساتھ تماشا لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہاکہ اڈیالہ جیل کے باہر ان کی پارٹی کا کوئی عہدیدار نہیں پہنچتا اور پولیس تب ہی کارروائی کرتی ہے جب قانون کی خلاف ورزی کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ اگر آپ پولیس کے ساتھ بدتمیزی یا ہاتھا پائی کرتے ہیں تو کیا پولیس خاموش رہ سکتی ہے؟ اور اگر آپ کے لیڈر کے لیے لوگ باہر نہیں نکلتے تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے؟
عظمیٰ بخاری نے زور دیا کہ آئین کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے نام پر قانون شکنی کا کھیل بند ہونا چاہیے۔ جنہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ کسی بھی صورت میں کٹہرے میں کھڑا ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں پر تشدد کیا گیا تھا، جس کی پی ٹی آئی کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے باہر ڈراما لگاتی ہے، باز نہ آنے پر حل نکالنا ہوگا، رانا ثنااللہ
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کے باوجود کارکنان ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر پہنچتے ہیں، اور گرفتار قائد سے اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اڈیالہ جیل پاکپتن پیر خانہ پی ٹی آئی زمان پارک عظمیٰ بخاری وزیر اطلاعات پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پاکپتن پیر خانہ پی ٹی ا ئی زمان پارک وزیر اطلاعات پنجاب وی نیوز اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔