افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے تصدیق کی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کے واضح اور ٹھوس دستاویزی شواہد موجود ہیں، یہ شواہد صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کے پاس موجود ہیں۔
نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وہ بطور سابق وزیراعلیٰ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان کی سرزمین سے پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرگرمیاں افغان حکومت اور تحریکِ طالبان افغانستان کے علم میں ہیں اور ان کی سرپرستی اور حمایت سے ہو رہی ہیں، خیبرپختونخوا میں پیش آنے والے دہشتگردی کے متعدد واقعات میں افغان شہری براہِ راست ملوث پائے گئے جبکہ کئی دہشتگرد کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان شواہد کو نظرانداز کرنا حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے کیونکہ دہشتگردی کے نیٹ ورکس سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے منظم انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ریاست کو اس دعوے کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کرنے چاہئیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ علی امین گنڈا پور کے حالیہ بیان کو اسی تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور دہشتگردی کے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔