ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی سندھ نے کہا کہ ایک طرف سوئی سدرن کمپنی عوام کو گیس کی نارمل فراہمی میں ناکام ہوگئی ہے تو دوسری طرف گیس کی بندش اور لوڈشیڈنگ کے باوجود گیس کے بل ہزاروں میں جاری کئے جارہے ہیں جوکہ ظلم و ناانصافیوں کے مارے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں غیراعلانیہ گیس کی بندش، لوڈشیڈنگ اور انتہائی کم پریشر کی شکایات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سندھ ملک کی ستر فیصد گیس پیدا کرتا ہے تو اس پر پہلا حق سندھ کا ہی ہونا چاہیئے، آئین کے آرٹیکل 157 کی شق نمبر 2 میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ جو گیس اور بجلی کسی ایک صوبے میں پیدا ہوتی ہے اس پر سب سے پہلا حق اس صوبے کا ہے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کو اس سنگین مسئلے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرے۔ انہوں نے آج ایک بیان میں کہا کہ سخت سردی کے موسم میں گیس کا بدترین بحران ہے، واقعی چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، بعض علاقوں میں مکمل طور پر گیس بند ہے، بعض علاقوں میں لو پریشر اور لوڈشیڈنگ کے باعث شہری اذیت کا شکار ہیں، ایک طرف سوئی سدرن کمپنی عوام کو گیس کی نارمل فراہمی میں ناکام ہوگئی ہے تو دوسری طرف گیس کی بندش اور لوڈشیڈنگ کے باوجود گیس کے بل ہزاروں میں جاری کئے جارہے ہیں جوکہ ظلم و ناانصافیوں کے مارے عوام کے ساتھ ظلم ہے، یہی حال بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے حالات پہلے ہی خراب ہیں اور بنیادی سہولتیں جو حکومت کی ذمہ داری ہے وہ فراہم نہیں کر رہی، جب آپ ٹیکس لیتے ہیں تو سہولیات فراہم کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے، 70 فیصد گیس پیدا کرنے والے صوبہ کے عوام اذیت کا شکار چولوہے ٹھنڈے اندھیروں کا راج ہے، اس وقت صوبہ سندھ کی 50 فیصد گھروں میں گیس کی سہولت نہیں ہے، 44 فیصد گھرانے لکڑیاں جلاکر اپنا چولہا جلاتے ہیں مگر یہاں سے نکلنے والی گیس راولپنڈی تک پہنچ جاتی ہے، دوسرے صوبے میں یہاں کی گیس و بجلی سے کارخانے چلائے جارہے ہیں، اسلام آباد کی ناانصافی پر مبنی پالیسیوں سے عوام کے اندر تشویش اور محرومیوں میں اضافہ ایک فطری عمل ہے، ساری مراعات و سہولیات اشرافیہ کے لیے ہیں اور ملک کے سارے وسائل ان کی عیاشیوں میں جھونکے جارہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی ملک میں جاری ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عدل کے قیام کے لیے بدل دو نظام کو تحریک چلارہی ہے، عوام نظام و قیادت کی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جارہے ہیں گیس کی

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود