سندھ بلڈنگ، انتظامی سرپرستی میں کمرشل پورشن کی غیر قانونی تعمیرجاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
نارتھ ناظم آباد کے رہائشی پلاٹ B51بلاک Rپر سیف بن رؤف کے کمرشل یونٹ کی تعمیر
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کا تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ، رہائشی پلان کی خلاف ورزی ، انتظامیہ خاموش
ضلع وسطی کے رہائشی علاقے نارتھ ناظم آباد علاقے میں پلاٹ نمبر بی-51، بلاک آر میں ایک رہائشی پلاٹ پر کمرشل پورشن یونٹ کی غیر قانونی تعمیر کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے ، جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سمیت انتظامیہ کے کچھ افسران کے تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ کی اطلاعات ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، سیف بن رؤف نامی شخص نے مذکورہ بالا رہائشی پلاٹ پر کمرشل پورشن یونٹ تعمیر کرنے کا آغاز کیا ہے ، جو علاقے کے رہائشی زون کے پلان کے صریحاً خلاف ہے ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ تعمیراتی کام غیر قانونی ہے اور اس سے نہ صرف علاقے کا رہائشی ماحول برباد ہو رہا ہے بلکہ پارکنگ، پانی اور صفائی کے مسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ سیف بن رؤف کو انتظامی حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ خاص طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کا نام اس غیر قانونی تعمیر کے پیچھے ایک طاقتور حامی کے طور پر لیا جا رہا ہے ۔علاقہ مکینوں کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے سے علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن اداروں کو غیر قانونی تعمیرات روکنے کا اختیار ہے ،وہی ادارے اس میں ملوث ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک پلاٹ تک محدود نہیں، بلکہ ضلع وسطی میں تعمیراتی مافیا اور انتظامی افسران کے گٹھ جوڑ کی ایک کڑی ہے ۔ اس گٹھ جوڑ کے تحت رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات کی اجازت دے کر بڑی رقم وصولی کی جاتی ہے ، جبکہ عام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔علاقے کے رہائشیوں نے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ غیر قانونی تعمیر روکی نہ گئی تو وہ احتجاجی مہم چلانے پر مجبور ہوں گے ۔ انہوں نے سندھ حکومت اور کراچی کے اعلیٰ افسران سے اس گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔اس واقعے پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان سے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ کوئی واضح بیان دینے سے قاصر رہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔یہ معاملہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دُہرے معیار کو واضح کرتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام اس گٹھ جوڑ کے خلاف فوری طور پر کارروائی کریں اور شہریوں کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سندھ بلڈنگ کے رہائشی گٹھ جوڑ
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن