پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر صائم ایوب نے آئی سی سی کی تازہ ترین ٹی20 انٹرنیشنل آل راؤنڈر رینکنگ میں اپنی نمبر ون پوزیشن گنوا دی ہے۔ یہ تنزلی سری لنکا کے خلاف حالیہ تین میچوں پر مشتمل ٹی20 سیریز کے بعد سامنے آئی ہے۔

سری لنکا کے خلاف سیریز میں صائم ایوب کا مجموعی آل راؤنڈ فارم متاثر رہا۔ انہوں نے دو اننگز میں مجموعی طور پر صرف 30 رنز بنائے جبکہ انہیں بالنگ کا موقع بھی نہیں مل سکا جس کے باعث ان کے رینکنگ پوائنٹس میں کمی واقع ہوئی۔ سیریز 1-1 سے برابر رہی جبکہ ایک میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا۔

رینکنگ میں پوائنٹس کم ہونے کے بعد صائم ایوب 269 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ زمبابوے کے کپتان سکندر رضا 289 پوائنٹس کے ساتھ ٹی20 آل راؤنڈر رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

بیٹنگ رینکنگ میں صائم ایوب اپنی 37ویں پوزیشن پر برقرار ہیں اور ان کے پوائنٹس 551 ہیں۔ اسی فہرست میں پاکستان کے دیگر کھلاڑیوں کی پوزیشنز میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ بابر اعظم، جو سری لنکا کے خلاف سیریز میں شریک نہیں تھے، تین درجے تنزلی کے بعد 32ویں نمبر پر آ گئے ہیں جبکہ صاحبزادہ فرحان ایک درجہ بہتری کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں

آئی سی سی رینکنگ: صائم ایوب نے دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرلی

قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے شاندار کارکردگی کی بدولت بیٹنگ رینکنگ میں 13 درجے ترقی حاصل کرتے ہوئے 41ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب بولنگ رینکنگ میں ابرار احمد ایک درجہ نیچے چلے گئے جبکہ محمد نواز دو درجے تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی انجری کے باعث پانچ درجے نیچے آ گئے ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے یہ تازہ ترین رینکنگ 14 جنوری 2026 کو جاری کی گئی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صائم ایوب گئے ہیں

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر