صائم ایوب ٹی20 انٹرنیشنل آل راؤنڈر رینکنگ میں پہلی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر صائم ایوب نے آئی سی سی کی تازہ ترین ٹی20 انٹرنیشنل آل راؤنڈر رینکنگ میں اپنی نمبر ون پوزیشن گنوا دی ہے۔ یہ تنزلی سری لنکا کے خلاف حالیہ تین میچوں پر مشتمل ٹی20 سیریز کے بعد سامنے آئی ہے۔
سری لنکا کے خلاف سیریز میں صائم ایوب کا مجموعی آل راؤنڈ فارم متاثر رہا۔ انہوں نے دو اننگز میں مجموعی طور پر صرف 30 رنز بنائے جبکہ انہیں بالنگ کا موقع بھی نہیں مل سکا جس کے باعث ان کے رینکنگ پوائنٹس میں کمی واقع ہوئی۔ سیریز 1-1 سے برابر رہی جبکہ ایک میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا۔
رینکنگ میں پوائنٹس کم ہونے کے بعد صائم ایوب 269 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ زمبابوے کے کپتان سکندر رضا 289 پوائنٹس کے ساتھ ٹی20 آل راؤنڈر رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
بیٹنگ رینکنگ میں صائم ایوب اپنی 37ویں پوزیشن پر برقرار ہیں اور ان کے پوائنٹس 551 ہیں۔ اسی فہرست میں پاکستان کے دیگر کھلاڑیوں کی پوزیشنز میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ بابر اعظم، جو سری لنکا کے خلاف سیریز میں شریک نہیں تھے، تین درجے تنزلی کے بعد 32ویں نمبر پر آ گئے ہیں جبکہ صاحبزادہ فرحان ایک درجہ بہتری کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔
مزید پڑھیںآئی سی سی رینکنگ: صائم ایوب نے دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کرلی
قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے شاندار کارکردگی کی بدولت بیٹنگ رینکنگ میں 13 درجے ترقی حاصل کرتے ہوئے 41ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب بولنگ رینکنگ میں ابرار احمد ایک درجہ نیچے چلے گئے جبکہ محمد نواز دو درجے تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی انجری کے باعث پانچ درجے نیچے آ گئے ہیں۔
آئی سی سی کی جانب سے یہ تازہ ترین رینکنگ 14 جنوری 2026 کو جاری کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔