درآمد شدہ موبائل فون پر ٹیکسوں میں کمی کا معاملہ، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کا اہم مطالبہ پورا کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
درآمد شدہ موبائل فون پر ٹیکسوں میں کمی کا معاملہ، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کا اہم مطالبہ پورا کرنے میں ناکام WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)درآمد شدہ موبائل فون پر ٹیکسوں میں کمی کا معاملہ، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے ٹیلی کام آپریٹرز کا اہم مطالبہ پورا کرنے میں ناکام ،فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق پالیسی ڈائریکٹو میں بھی موبائل فون ٹیکس سے متعلق کوئی واضح یقین دہانی نہ کرائی گئی۔
ذرائع کے مطابق موبائل فون آپریٹرز فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کے ساتھ موبائل فون ٹیکس میں کمی سمیت ٹیکس رعایت کا مطالبہ کررہے ہیں ، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے ملک میں فائیو جی ڈیوائسز کی کمی کو دور کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی سفارش کی تھی ، ایف بی آر نے وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کا ٹیکسوں میں فوری کمی سے متعلق مطالبہ مسترد کردیا ۔
ایف بی آر حکام نے درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکسوں میں فوری کمی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ موبائل فون ٹیکس میں کمی سے ٹیکس وصولی کے مجموعی اہداف متاثر ہوں گے ، ایف بی آر آئندہ بجٹ میں موبائل فون ٹیکس پر نظرثانی کے موقف پر قائم ،وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی ایک کمیٹی آئندہ بجٹ میں موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی سے متعلق امور کا جائزہ لے رہی ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین سے ملاقات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین سے ملاقات جوڈیشل کمیشن کی پشاور ہائیکورٹ کے 6ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری پاکستان میں فلپائن کے سابق سفیر سموئل ٹی رمیل کی وفات، تعزیت کا اظہار آئی ایم ایف کے بغیر اور برآمدات پر منحصر معاشی گروتھ کیلئے 3 کمیٹیاں قائم وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے درآمد شدہ موبائل فون ٹیکسوں میں کمی پر ٹیکسوں میں
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔