مذہب پر مبنی سیاست پر کانگریس کے لچکدار انداز نے بھارت کو نقصان پہنچایا، مولانا ارشد مدنی
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے کہا کہ تقسیم کے بعد جب ملک بھر میں مسلم مخالف فسادات پھوٹ پڑے تو مہاتما گاندھی نے انہیں روکنے کیلئے روزہ رکھا۔ فرقہ پرست طاقتوں حتیٰ کہ کانگریس کے کچھ سینئر لیڈروں کو بھی یہ پسند نہیں آیا اور وہ انکے خلاف ہوگئے، جو بالآخر انکے قتل کا باعث بنے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں مذہب پر مبنی سیاست کے لئے لچکدار رویہ اپنا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پارٹی نے 77 سال پہلے فرقہ پرستی کے خلاف ٹھوس موقف اختیار کیا ہوتا تو اسے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جاتا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر 77 سال پہلے فرقہ پرستی کو مضبوطی سے کچل دیا جاتا تو ملک کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اپنی حکمرانی کے دوران مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کے لئے جو لچکدار طریقہ اپنایا اس نے ملک اور آئین دونوں کو بہت نقصان پہنچایا، تحریک آزادی میں حصہ لینے والے ہمارے آباؤ اجداد نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آج جس طرح آئین اور جمہوری اقدار کو کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس خطوط پر آئین کی بنیاد رکھی گئی تھی اگر آزاد ہندوستان کے آئین کو پوری ایمانداری کے ساتھ نافذ کیا جاتا تو ہمیں آج اس دن کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک سچائی ہے کہ کسی نامعلوم خوف کی وجہ سے کانگریس لیڈروں نے شروع ہی سے مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کے خلاف لچکدار پالیسی اپنائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا گیا اور آئین کے مطابق ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے گریز کیا گیا جس کے نتیجے میں فرقہ پرست طاقتوں کو پنپنے کا موقع ملا۔
مولانا ارشد مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے پیچھے فرقہ پرست طاقتوں کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت فرقہ پرستی کا سر کچل دیا جاتا تو ملک کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے کہا کہ تقسیم کے بعد جب ملک بھر میں مسلم مخالف فسادات پھوٹ پڑے تو مہاتما گاندھی نے انہیں روکنے کے لیے روزہ رکھا۔ فرقہ پرست طاقتوں، حتیٰ کہ کانگریس کے کچھ سینئر لیڈروں کو بھی یہ پسند نہیں آیا اور وہ ان کے خلاف ہوگئے، جو بالآخر ان کے قتل کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں مہاتما گاندھی جیسے عظیم انسان کا قتل ملک کے سیکولرازم کا قتل تھا، لیکن بدقسمتی سے کانگریس قیادت نے وہ نہیں کیا جو اس وقت کرنا چاہیے تھا۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی قیادت کانگریس قیادت سے فرقہ پرستی کے اس جنون کو روکنے کا مسلسل مطالبہ کر رہی تھی، لیکن بدقسمتی سے اس مطالبہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس سے فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نسل اس تاریخ سے بھی ناواقف ہے کہ آزادی سے قبل ہی جمعیۃ علماء ہند کی قیادت نے کانگریس قائدین سے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ آزادی کے بعد ملک کا دستور سیکولر ہوگا جس میں تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔
مولانا ارشد مدنی نے الزام لگایا کہ آزادی کے بعد، جب ملک تقسیم ہوا، کانگریس لیڈروں کا ایک بڑا طبقہ دوسرے لیڈروں کے مطالبے میں شامل ہوگیا جنہوں نے دلیل دی کہ اب جبکہ مسلمانوں کے لئے مذہب کے نام پر ایک نیا ملک بنایا گیا ہے، ہندوستان کا آئین سیکولر نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر جمعیۃ علماء ہند کی قیادت نے سختی سے کانگریس قائدین سے جوابدہی کا مطالبہ کیا اور ان سے کہا کہ اگر ملک تقسیم ہوتا ہے تو اس مسودے پر آپ (کانگریس) نے دستخط کیے تھے، ہم نے نہیں، اس لئے آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیئے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس کے بعد ایک سیکولر آئین تیار کیا گیا، لیکن فرقہ پرستی کی جڑیں گہری ہوتی چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے بار بار پکارنے کے باوجود، اس پر کوئی روک نہیں لگائی گئی، حالانکہ اس وقت مرکز اور تمام ریاستوں میں کانگریس کی حکومت تھی، اگر وہ چاہتی تو اس کے خلاف سخت قانون پاس کر سکتی تھی، لیکن اس کی لچکدار پالیسی کے نتیجے میں فرقہ پرست طاقتیں اور زیادہ طاقتور ہوگئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی فرقہ پرست طاقتوں انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی فرقہ پرستی کے خلاف کے بعد کہ اگر
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز