جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے کہا کہ تقسیم کے بعد جب ملک بھر میں مسلم مخالف فسادات پھوٹ پڑے تو مہاتما گاندھی نے انہیں روکنے کیلئے روزہ رکھا۔ فرقہ پرست طاقتوں حتیٰ کہ کانگریس کے کچھ سینئر لیڈروں کو بھی یہ پسند نہیں آیا اور وہ انکے خلاف ہوگئے، جو بالآخر انکے قتل کا باعث بنے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں مذہب پر مبنی سیاست کے لئے لچکدار رویہ اپنا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پارٹی نے 77 سال پہلے فرقہ پرستی کے خلاف ٹھوس موقف اختیار کیا ہوتا تو اسے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جاتا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر 77 سال پہلے فرقہ پرستی کو مضبوطی سے کچل دیا جاتا تو ملک کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اپنی حکمرانی کے دوران مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کے لئے جو لچکدار طریقہ اپنایا اس نے ملک اور آئین دونوں کو بہت نقصان پہنچایا، تحریک آزادی میں حصہ لینے والے ہمارے آباؤ اجداد نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آج جس طرح آئین اور جمہوری اقدار کو کھلے عام پامال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس خطوط پر آئین کی بنیاد رکھی گئی تھی اگر آزاد ہندوستان کے آئین کو پوری ایمانداری کے ساتھ نافذ کیا جاتا تو ہمیں آج اس دن کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک سچائی ہے کہ کسی نامعلوم خوف کی وجہ سے کانگریس لیڈروں نے شروع ہی سے مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کے خلاف لچکدار پالیسی اپنائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا گیا اور آئین کے مطابق ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے گریز کیا گیا جس کے نتیجے میں فرقہ پرست طاقتوں کو پنپنے کا موقع ملا۔

مولانا ارشد مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے پیچھے فرقہ پرست طاقتوں کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت فرقہ پرستی کا سر کچل دیا جاتا تو ملک کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ نے کہا کہ تقسیم کے بعد جب ملک بھر میں مسلم مخالف فسادات پھوٹ پڑے تو مہاتما گاندھی نے انہیں روکنے کے لیے روزہ رکھا۔ فرقہ پرست طاقتوں، حتیٰ کہ کانگریس کے کچھ سینئر لیڈروں کو بھی یہ پسند نہیں آیا اور وہ ان کے خلاف ہوگئے، جو بالآخر ان کے قتل کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں مہاتما گاندھی جیسے عظیم انسان کا قتل ملک کے سیکولرازم کا قتل تھا، لیکن بدقسمتی سے کانگریس قیادت نے وہ نہیں کیا جو اس وقت کرنا چاہیے تھا۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی قیادت کانگریس قیادت سے فرقہ پرستی کے اس جنون کو روکنے کا مسلسل مطالبہ کر رہی تھی، لیکن بدقسمتی سے اس مطالبہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس سے فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نسل اس تاریخ سے بھی ناواقف ہے کہ آزادی سے قبل ہی جمعیۃ علماء ہند کی قیادت نے کانگریس قائدین سے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ آزادی کے بعد ملک کا دستور سیکولر ہوگا جس میں تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔

مولانا ارشد مدنی نے الزام لگایا کہ آزادی کے بعد، جب ملک تقسیم ہوا، کانگریس لیڈروں کا ایک بڑا طبقہ دوسرے لیڈروں کے مطالبے میں شامل ہوگیا جنہوں نے دلیل دی کہ اب جبکہ مسلمانوں کے لئے مذہب کے نام پر ایک نیا ملک بنایا گیا ہے، ہندوستان کا آئین سیکولر نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر جمعیۃ علماء ہند کی قیادت نے سختی سے کانگریس قائدین سے جوابدہی کا مطالبہ کیا اور ان سے کہا کہ اگر ملک تقسیم ہوتا ہے تو اس مسودے پر آپ (کانگریس) نے دستخط کیے تھے، ہم نے نہیں، اس لئے آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیئے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس کے بعد ایک سیکولر آئین تیار کیا گیا، لیکن فرقہ پرستی کی جڑیں گہری ہوتی چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے بار بار پکارنے کے باوجود، اس پر کوئی روک نہیں لگائی گئی، حالانکہ اس وقت مرکز اور تمام ریاستوں میں کانگریس کی حکومت تھی، اگر وہ چاہتی تو اس کے خلاف سخت قانون پاس کر سکتی تھی، لیکن اس کی لچکدار پالیسی کے نتیجے میں فرقہ پرست طاقتیں اور زیادہ طاقتور ہوگئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی فرقہ پرست طاقتوں انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی فرقہ پرستی کے خلاف کے بعد کہ اگر

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا