امریکی سول سوسائٹی گروپس کا ایکس اور گروک کو ایپ اور پلے اسٹور سے ہٹانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ایلون مسک کو ایک اور چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ خواتین کے حقوق کے گروپس، ترقی پسند کارکنان اور ٹیک ریگولیٹرز نے گوگل اور ایپل کمپنی سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ایپ اسٹورز سے ایکس اوراے آئی چیٹ بوٹ گروک کو ہٹا دیں۔
بدھ کے روز شائع ہونے والے ایک کھلے خط میں ان سول سوسائٹی گروپس نے مسک کی ملکیت والے ایپ پر الزام لگایا کہ یہ انتہائی پریشان کن، فحش اور غیر قانونی مواد پیدا کرتا ہے جو کمپنیوں کے سروس ٹرمز کی خلاف ورزی ہے۔
اس اقدام کے حامیوں میں نیشنل آرگنائزیشن فار ویمن، فیمنسٹ گروپ الٹرا وائلٹ ، لبرل گروپ موو آن اور والدین کے حقوق کے گروپ پیرنٹس ٹوگیدر ایکشن شامل ہیں۔
اس اتحاد کا مقصد 54 سالہ ارب پتی ایلون مسک پر دباؤ ڈالنا ہے کیونکہ ایکس اے آئی کے تحت چلنے والا گروک اے آئی دنیا بھر میں تنقید کا شکار ہوا ہے، خاص طور پر بچوں اور خواتین کی جنسی اور پرتشدد تصاویر بنانے کے الزام میں۔
الٹرا وائلٹ کی کیمپین ڈائریکٹر جینا شرمین نے رائٹرز سے کہا کہ ہم واقعی ایپل اور گوگل سے پرزور اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اسے سنجیدگی سے لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسا نظام فعال کر رہے ہیں جس میں ہزاروں، یا شاید لاکھوں لوگ، خاص طور پر خواتین اور بچے، اپنی ایپ اسٹورز کے ذریعے جنسی زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔
کھلے خط کے جواب میں ایکس نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
انتہائی متنازع اور جنسی نوعیت کی تصاویر جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس قانونی مشکلات میں بھی پھنس گیا ہے کیونکہ متعدد ممالک گروک اے آئی کے ڈیپ فیک مواد کے حوالے سے کارروائی کر رہے ہیں۔
منگل کو ملائشیا نے غیر قانونی مواد کے حوالے سے ایکس کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔
اس سے قبل برطانیہ کے ریگولیٹر آف کام نے بھی ایکس پر تحقیقات شروع کیں۔
امریکی فیڈریشن آف ٹیچرز نے بھی بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر کی وجہ سے اس سوشل نیٹ ورک کو چھوڑ دیا۔
دوسری جانب عالمی تنقید کے جواب میں ایکس اے آئی نے گروک میں تصویر بنانے کی خصوصیات بند کر دی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی اس طرح کی قابل اعتراض تصاویر بنانے کی کوشش کرے تو سخت کارروائی کا سامنا کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الٹرا وائلٹ کیمپین ڈائریکٹر جینا شرمین ایکس اے آئی ایلون مسک سول سوسائٹی گروک گروک مشکل میں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس اے ا ئی ایلون مسک سول سوسائٹی گروک گروک مشکل میں رہے ہیں اے ا ئی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز