سال رواں کے دوران سعودی عرب سے تعلقات مضبوط تر بنائیں گے، کینیڈا کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت منیندر سدھو کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مارک کارنی کی نئی حکومت کے تحت سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان تعاون میں 2026 کے دوران تیزی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی جانب سے کینیڈا اور مالٹا کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کا خیر مقدم
ریاض میں اوپن ٹیکسٹ کے ریجنل ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے موقعے پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے منیندر سدھو نے کہا جکہ آپ سال 2026 میں اس تعلق میں تیزی سے بہتری دیکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ خطے کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے اور انہوں نے جان بوجھ کر اس خطے کو اپنی اولین ترجیح بنایا کیونکہ یہ علاقہ کینیڈا کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دوستی اور شراکت داری کا معاملہ ہے۔
دورے کے دوران کینیڈین وزیر قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کے ہمراہ ملاقاتیں کریں گے۔
سعودی عرب کے دورے کے مقصد کے بارے میں سوال پر سدھو نے کہا کہ اس کا بنیادی ہدف رابطہ کاری کو مضبوط بنانا ہے تاکہ سعودی اور کینیڈین کاروباری حلقوں کے درمیان براہِ راست بات چیت ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیے: کیا صدر ٹرمپ امریکا کو تنہا اور کمزور بنا رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ حکومت سے حکومت کے تعلقات بھی اہم ہیں تاکہ ایسے اقدامات کیے جا سکیں جو کاروبار کو فروغ دیں۔
کینیڈین وزیر کے مطابق اس وقت سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم تقریباً 4 ارب ڈالر ہے جس میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری توجہ دونوں ممالک کے کاروبار کے لیے دروازے کھولنے اور تعاون کو فروغ دینے پر ہے۔ مزید پیشرفت آپ کو جلد نظر آئے گی۔ کئی کمپنیاں یہاں اپنے ریجنل ہیڈکوارٹر قائم کر رہی ہیں تاکہ معاشی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
دورے کے دوران منیندر سدھو نے سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح سے ملاقات کی، جس میں صنعتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کی تجارتی تنوع کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نومبر 2025 میں خالد الفالح کی قیادت میں سعودی اعلیٰ سطحی وفد نے اوٹاوا کا دورہ کیا تھا جس کے دوران دونوں ممالک نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
اس وقت 150 سے زائد کینیڈین کمپنیاں مملکت میں سرگرم ہیں جو مصنوعی ذہانت، کان کنی، تخلیقی معیشت، صحت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا برطانیہ، آسٹریلیا اور پرتگال کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم
سدھو نے کہا کہ وہ کاروبار سے کاروبار کے تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں اور سعودی کمپنیوں کو بھی کینیڈا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سعودی کمپنیوں کو بھی کینیڈا آنے کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک مختلف خطوں کی خدمت کرتے ہیں اور یہاں باہمی فائدے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کینیڈا کے دنیا کے 51 ممالک کے ساتھ 15 تجارتی معاہدے ہیں اور سعودی کمپنیوں کو کینیڈا میں ریجنل ہیڈکوارٹر قائم کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
انٹرویو کے دوران منیندر سدھو نے کان کنی کو تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس میدان میں شراکت داری کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 2026 ورلڈ کپ سے پہلے ہی سعودی عرب فٹبال کی دنیا کی سپر پاور بن گیا
انہوں نے بتایا کہ 100 سے زائد کینیڈین کمپنیاں ریاض میں جاری فیوچر منرلز فورم میں شرکت کر رہی ہیں جو 15 جنوری تک جاری رہے گا۔
وزیر نے دفاعی تعاون میں اضافے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ جہاں سال 2025 میں 40 کینیڈین کمپنیاں ورلڈ ڈیفنس شو میں شریک ہوئیں وہیں اس سال یہ تعداد 80 تک پہنچ جائے گی۔
منیندر سدھو نے سعودی وزیر برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ سے بھی ملاقات کی جس میں مصنوعی ذہانت، اختراع اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کا 2030 تک مائننگ میں سرمایہ کاری 92 ارب ریال تک لے جانے کا ہدف
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مماثلتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور کینیڈا کی آبادی تقریباً 40، 40 ملین ہے اور تعلیم، صحت اور سیاحت جیسے شعبوں میں ہمارے درمیان خاصی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریاض سعودی عرب کینیڈا کینیڈا سعودی تعلقات منیندر سدھو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریاض کینیڈا کینیڈا سعودی تعلقات منیندر سدھو انہوں نے کہا کہ منیندر سدھو نے سعودی عرب اور دونوں ممالک سرمایہ کاری کے درمیان کینیڈا کے کے دوران
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔