کراچی، شیعہ سنی رہنماؤں کا رہبر معظم سید علی خامنہ ای سے اظہار یکجہتی، ویڈیو
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: کانفرنس سے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ سید حسن ظفر نقوی، علامہ نثار قلندری، علامہ عقیل انجم قادری، ڈاکٹر صابر ابو مریم، علامہ حیات عباس نجفی و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری
حامیان مظلومین جہان کراچی کے زیر اہتمام یاد شہدائے مقاومت و حمایت مظلومین جہان کانفرنس کا انعقاد اسلامک ریسرچ سینٹر فیڈرل بی ایریا کراچی میں کیا گیا۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ سید حسن ظفر نقوی، مجلس ذاکرین امامیہ پاکستان کے سربراہ علامہ نثار احمد قلندری، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ عقیل انجم قادری، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر صابر ابو مریم، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ معروف شاعر و ادیب فراست رضوی نے شہدائے مقاومت و مظلومین جہان سے متعلق اپنی خصوصی نظمیں پیش کیں۔ کانفرنس میں بڑی تعداد خواتین سمیت شہریوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض علامہ مبشر حسن نے انجام دیئے۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس دنیا میں کوئی ایسی قیادت موجود ہے جو آج عالمی سامراجی صہیونی نظام کو چیلنج کر رہی ہے، تو وہ خدا کی قسم روس اور چین میں نہیں بلکہ سرزمین ایران میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج روئے زمین پر تمام اہل حریت شکر گزار ہیں مکتب تشیع کے، رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے، جنہوں نے جرأتوں کا راستہ اپنایا ہے، جنہوں نے اپنے سے بے تحاشا بڑے دشمنوں کو للکارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ نے ایران میں ایسا انقلاب اسلامی برپا کیا، جس نے ساری دنیا کی آنکھیں کھول دیں، آج کا باطل و کفر اس پر شدید پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے اندر گواہی دیتا ہوں کہ 1979ء سے پہلے سارے شیعہ مسلمان تھے، لیکن جب ایران میں انقلاب اسلامی آیا تو پاکستان کے اندر نعرے لگنے شروع ہوگئے، وہ جو مسلمان تھے انہیں کافر قرار دیا جانے لگا، ہمیں پہچاننا ہوگا کہ فرقہ واریت کی ڈوریں کہاں سے ہل رہی ہیں۔
مرکزی رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ نمرود نے خدائی اعلان کیا تھا، سیدنا حضرت ابراہیمؑ اکیلے ڈٹ گئے تھے، فرعون نے بھی خدائی کا اعلان کیا تھا، سیدنا موسیٰؑ سامنے آئے تھے، خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے والے یزید کے سامنے سیدنا امام حسینؑ ڈٹ کر کھڑے ہوئے تھے، آج کے دور میں امت مسلمہ کی وہ نڈر قیادت جو سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا موسیٰؑ، سیدنا امام حسینؑ کی تاریخ کو زندہ کر رہی ہے، تو وہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو سلام پیش کرتے ہیں کہ ساری دنیا کی پابندیوں کے باوجود اس نے ناصرف معیشت کو چلایا ہے اس کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی ناقبل تسخیر بنایا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے اندر آگے بڑھ رہا ہے، ایران نے بے شمار علوم میں ہوری مسلم دنیا میں تحقیق کے میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔
ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ وینزویلین صدر مادورو کو اغوا کرنے والی امریکی ڈیلٹا فورس کو پہلی ناکامی ایران کے اندر ہوئی تھی، جہاں وہ اپنے مغوی سفارتکاروں کو چھڑانے آئے لیکن ناکام ہوئے، ان کے ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے تھے، وہ اپنی لاشیں چھوڑ کر بھاگے تھے، امریکا اگر دوبارہ تجربہ کرنا چاہا ہے تو یاد رکھے 80-1979ء کی تاریخ دوبارہ دہرائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ صہیونیت نواز میڈیا رہبر معظم سید علی خامنہ ای کیخلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، لیکن الحمداللہ رہبر معظم آج ہر مسلمان کے دل کے اندر بستے ہیں، جن کی حفاظت رب العالمین کرے اس چراغ کو پھونکوں سے نہیں بھجایا جا سکتا، شہدائے مقاومت فکر امام خمینیؒ کے سپاہی تھے، یہ لشکر مقاومت نہیں رکے گا، انشاء اللہ اس دنیا میں طاغوت کا نظام باقی نہیں رہے گا، امریکا اسرائیل سمیت تمام طاغوتی باطل قوتوں کو شکست فاش ہوگی۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کیخلاف صہیونی امریکی ایماء پر پروپیگنڈا کرنیوالے چینلز اسلام اور مسلمانوں سے غداری کر رہے ہیں، رہبر معظم دفاع اسلام کا آخری مورچہ ہیں، خدانخواستہ اس مورچے کو کچھ ہوا تو یہ چینلز بھی عالمی طاغوت سے نہیں بچ پائینگے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں جان دے دینا، شہید ہو جانا شکست نہیں فتح کی علامت ہے، نواسہ رسولؐ سیدالشہداء امام حسینؑ نے میدان کربلا میں آل و اصحاب سمیت شہادت پیش کرکے تاقیامت فاتح بن گئے، اسلام کو زندہ اور یزیدیت و ظاغوت کو رسوا و شکست خوردہ کرگئے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ فلسطین میں ایک لاکھ سے زائد ہمارے بھائی بہنیں معصوم بچے مار دیئے گئے، کہاں تھی انسانی حقوق کے چیمپئین، جنگ بندی کے باوجود ہر روز اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر بم برسا رہا ہے، لیکن سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، انہیں جمہوری اسلامی ایران میں امریکی اسرائیلی ایماء پر ہونے والے فساد پر بولنے کا کوئی حق نہیں۔
مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ آج اگر اس روئے زمین پر کوئی اطمنان سے ہے تو ہر وہ شخص مطمئن ہے جو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے ساتھ ہے، جبکہ پوری دنیا پریشان ہے، کیونکہ جو لڑنا مرنا جانتا ہے اسے کسی باطل قوت کا کوئی خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن رہبر معظم نے اشارہ کیا تو کوئی فسادی نظر نہیں آئے گا، نہ ان فسادیوں کو امریکا پناہ دے گا، جیسے اس نے اپنے ایجنٹ شاہ کو بھی پناہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ مقاومت و مزاحمت کبھی بھی ختم نہیں ہوگی، امریکا و اسرائیل کو چین سے سونے نہیں دیا جائیگا، کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا، اسی لئے وہ جنگ کے بجائے پروپیگنڈے سے کام لے رہے ہیں۔
علامہ نثار احمد قلندری نے کہا کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای سے متعلق گمراہ کن خبریں پھیلانے والے نہیں جانتے کہ علیؑ کا بیٹا کبھی بھی میدان سے فرار اختیار نہیں کرتا، وہ آج بھی میدان میں ثابت قدمی سے کھڑا ہوا ہے، رہبر معظم نے واضح کر دیا ہے کہ نمرود، فرعون، رضا شاہ کی طرح ٹرمپ کا بھی اپنے اقتدار کے عروج کے وقت جلد خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت ایران انقلاب اسلامی کے آغاز سے لیکر آج تک حالیہ مسئلے سے بڑے بڑے معرکوں کو سر کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے انقلاب اسلامی کے آغاز میں مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں تمام عالمی قوتوں کو تن تنہا شکست فاش سے دوچار کیا تھا، حال ہی میں اسرائیل و امریکا کی جانب سے مسلط کردہ بارہ روزہ جنگ میں فوجی قیادتوں و اہم سائنسدانوں کی شہادتوں کے باوجود بھی دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔
صدر مجلس ذاکرین امامیہ نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نے راہ خدا میں جو پُرخلوص جدوجہد کی، اسے قبول کرتے ہوئے خدا نے شہید سلیمانی کی بامقصد حیات کو عظیم شہادت سے متصل کر دیا، ہمیں بھی ان شہدائے مقاومت کی مانند عالمی طاغوتی طاقتوں، مستکبرین سے برسرپیکار رہتے ہوئے دنیا میں نظام الٰہی کے قیام اور مظلومین جہان کی حمایت میں اپنی زندگی گزاریں گے، یہی وہ وصیت ہے، جسے بیان کرتے ہوئے امیرالمومنین مولا علیؑ نے کہا کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کے مددگار رہنا، ہمیں بھی اس پر عمل پیرا رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے مقاومت نے اپنی مزاحمت سے عالمی طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنایا، انہیں پسا کیا، انہیں دنیا بھر میں رسوا کر دیا۔
ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار اگر کسی نے آگے بڑھتے ہوئے صہیونی اسرائیل کا راستہ روکا وہ حضرت امام خمینیؒ اور انکی قیادت میں آئے انقلاب اسلامی ایران تھا، اس کے بعد حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیل کا قبضہ چھڑوایا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے محور مقاومت کے شہداء الگ الگ شخصیات نہیں بلکہ ایک ہی نظریہ مزاحمت و مقاومت ہیں، شہدائے مقاومت نے ناصرف جان بلکہ اپنے مال آل و اولاد بھی راہ مزاحمت و مقاومت میں قربان کر دیئے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رہبری میں دنیا بھر کی طاغوتی طاقتوں کے مقابل مزاحمت و مقاومت جاری ہے، جس میں بہت بڑا کردار شہید قدس جنرل قاسم سلیمانی کا ہے، جنہوں نے محور مقاومت و مزاحمت کو مربوط، متحد و مضبوط بنایا، اگر شہید سلیمانی یہ کارنامہ انجام نہ دیتے تو نہ عراق، ایران و پاکستان بچتے، نہ ہی افغانستان، سعودی عرب و ترکی بچتے۔
سیکریٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ شہید قاسم سلیمانی ہی تھے، جنہوں نے حماس و دیگر فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو جنگی ٹیکنالوجی، اسلحہ و تربیت فراہم کی، انہوں خودکفیل بنا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا، غزہ کے نیچے پانچ سو کلومیٹر سرنگوں کا جال بھی شہید سلیمانی کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ ہے، جو آج بھی موجود ہے، مقبوضہ فلسطین میں حماس کے نوجوانوں کے ہاتھوں سات اکتوبر 2023ء کا طوفان الاقصیٰ بھی اسی کوشسوں کا نتیجہ ہے، جس نے صہیونی اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ شہید حسن نصراللہ، شہید اسماعیل ہنیہ، شہید یحیٰ سنوار و دیگر شہدائے مقاومت کے خون نے محور مقاومت کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام تر اقدامات کا ہدف اصل دشمن امریکا ہونا چاہیئے، اگر ہم نے امریکا کو چوٹ پہنچا دی تو اسرائیل سمیت تمام دشمن اپنی موت آپ مر جائینگے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہبر معظم سید علی خامنہ ای ڈاکٹر معراج الہدی پاکستان کے مرکزی انہوں نے کہا کہ شہدائے مقاومت انقلاب اسلامی مظلومین جہان نے کہا کہ ا ایران میں اسلامی ا جنہوں نے دنیا میں کے اندر کر دیا ئے تھے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔