اسلام ٹائمز: کانفرنس سے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، علامہ سید حسن ظفر نقوی، علامہ نثار قلندری، علامہ عقیل انجم قادری، ڈاکٹر صابر ابو مریم، علامہ حیات عباس نجفی و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری

حامیان مظلومین جہان کراچی کے زیر اہتمام یاد شہدائے مقاومت و حمایت مظلومین جہان کانفرنس کا انعقاد اسلامک ریسرچ سینٹر فیڈرل بی ایریا کراچی میں کیا گیا۔ کانفرنس سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ سید حسن ظفر نقوی، مجلس ذاکرین امامیہ پاکستان کے سربراہ علامہ نثار احمد قلندری، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ عقیل انجم قادری، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر صابر ابو مریم، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی و دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ معروف شاعر و ادیب فراست رضوی نے شہدائے مقاومت و مظلومین جہان سے متعلق اپنی خصوصی نظمیں پیش کیں۔ کانفرنس میں بڑی تعداد خواتین سمیت شہریوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض علامہ مبشر حسن نے انجام دیئے۔

ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس دنیا میں کوئی ایسی قیادت موجود ہے جو آج عالمی سامراجی صہیونی نظام کو چیلنج کر رہی ہے، تو وہ خدا کی قسم روس اور چین میں نہیں بلکہ سرزمین ایران میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج روئے زمین پر تمام اہل حریت شکر گزار ہیں مکتب تشیع کے، رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے، جنہوں نے جرأتوں کا راستہ اپنایا ہے، جنہوں نے اپنے سے بے تحاشا بڑے دشمنوں کو للکارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام خمینیؒ نے ایران میں ایسا انقلاب اسلامی برپا کیا، جس نے ساری دنیا کی آنکھیں کھول دیں، آج کا باطل و کفر اس پر شدید پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے اندر گواہی دیتا ہوں کہ 1979ء سے پہلے سارے شیعہ مسلمان تھے، لیکن جب ایران میں انقلاب اسلامی آیا تو پاکستان کے اندر نعرے لگنے شروع ہوگئے، وہ جو مسلمان تھے انہیں کافر قرار دیا جانے لگا، ہمیں پہچاننا ہوگا کہ فرقہ واریت کی ڈوریں کہاں سے ہل رہی ہیں۔

مرکزی رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ نمرود نے خدائی اعلان کیا تھا، سیدنا حضرت ابراہیمؑ اکیلے ڈٹ گئے تھے، فرعون نے بھی خدائی کا اعلان کیا تھا، سیدنا موسیٰؑ سامنے آئے تھے، خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے والے یزید کے سامنے سیدنا امام حسینؑ ڈٹ کر کھڑے ہوئے تھے، آج کے دور میں امت مسلمہ کی وہ نڈر قیادت جو سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا موسیٰؑ، سیدنا امام حسینؑ کی تاریخ کو زندہ کر رہی ہے، تو وہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو سلام پیش کرتے ہیں کہ ساری دنیا کی پابندیوں کے باوجود اس نے ناصرف معیشت کو چلایا ہے اس کے ساتھ ساتھ دفاع کو بھی ناقبل تسخیر بنایا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کے اندر آگے بڑھ رہا ہے، ایران نے بے شمار علوم میں ہوری مسلم دنیا میں تحقیق کے میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔

ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ وینزویلین صدر مادورو کو اغوا کرنے والی امریکی ڈیلٹا فورس کو پہلی ناکامی ایران کے اندر ہوئی تھی، جہاں وہ اپنے مغوی سفارتکاروں کو چھڑانے آئے لیکن ناکام ہوئے، ان کے ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے تھے، وہ اپنی لاشیں چھوڑ کر بھاگے تھے، امریکا اگر دوبارہ تجربہ کرنا چاہا ہے تو یاد رکھے 80-1979ء کی تاریخ دوبارہ دہرائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ صہیونیت نواز میڈیا رہبر معظم سید علی خامنہ ای کیخلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، لیکن الحمداللہ رہبر معظم آج ہر مسلمان کے دل کے اندر بستے ہیں، جن کی حفاظت رب العالمین کرے اس چراغ کو پھونکوں سے نہیں بھجایا جا سکتا، شہدائے مقاومت فکر امام خمینیؒ کے سپاہی تھے، یہ لشکر مقاومت نہیں رکے گا، انشاء اللہ اس دنیا میں طاغوت کا نظام باقی نہیں رہے گا، امریکا اسرائیل سمیت تمام طاغوتی باطل قوتوں کو شکست فاش ہوگی۔

علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کیخلاف صہیونی امریکی ایماء پر پروپیگنڈا کرنیوالے چینلز اسلام اور مسلمانوں سے غداری کر رہے ہیں، رہبر معظم دفاع اسلام کا آخری مورچہ ہیں، خدانخواستہ اس مورچے کو کچھ ہوا تو یہ چینلز بھی عالمی طاغوت سے نہیں بچ پائینگے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں جان دے دینا، شہید ہو جانا شکست نہیں فتح کی علامت ہے، نواسہ رسولؐ سیدالشہداء امام حسینؑ نے میدان کربلا میں آل و اصحاب سمیت شہادت پیش کرکے تاقیامت فاتح بن گئے، اسلام کو زندہ اور یزیدیت و ظاغوت کو رسوا و شکست خوردہ کرگئے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ فلسطین میں ایک لاکھ سے زائد ہمارے بھائی بہنیں معصوم بچے مار دیئے گئے، کہاں تھی انسانی حقوق کے چیمپئین، جنگ بندی کے باوجود ہر روز اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر بم برسا رہا ہے، لیکن سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، انہیں جمہوری اسلامی ایران میں امریکی اسرائیلی ایماء پر ہونے والے فساد پر بولنے کا کوئی حق نہیں۔

مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ آج اگر اس روئے زمین پر کوئی اطمنان سے ہے تو ہر وہ شخص مطمئن ہے جو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے ساتھ ہے، جبکہ پوری دنیا پریشان ہے، کیونکہ جو لڑنا مرنا جانتا ہے اسے کسی باطل قوت کا کوئی خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن رہبر معظم نے اشارہ کیا تو کوئی فسادی نظر نہیں آئے گا، نہ ان فسادیوں کو امریکا پناہ دے گا، جیسے اس نے اپنے ایجنٹ شاہ کو بھی پناہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ مقاومت و مزاحمت کبھی بھی ختم نہیں ہوگی، امریکا و اسرائیل کو چین سے سونے نہیں دیا جائیگا، کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا، اسی لئے وہ جنگ کے بجائے پروپیگنڈے سے کام لے رہے ہیں۔

علامہ نثار احمد قلندری نے کہا کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای سے متعلق گمراہ کن خبریں پھیلانے والے نہیں جانتے کہ علیؑ کا بیٹا کبھی بھی میدان سے فرار اختیار نہیں کرتا، وہ آج بھی میدان میں ثابت قدمی سے کھڑا ہوا ہے، رہبر معظم نے واضح کر دیا ہے کہ نمرود، فرعون، رضا شاہ کی طرح ٹرمپ کا بھی اپنے اقتدار کے عروج کے وقت جلد خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت ایران انقلاب اسلامی کے آغاز سے لیکر آج تک حالیہ مسئلے سے بڑے بڑے معرکوں کو سر کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے انقلاب اسلامی کے آغاز میں مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں تمام عالمی قوتوں کو تن تنہا شکست فاش سے دوچار کیا تھا، حال ہی میں اسرائیل و امریکا کی جانب سے مسلط کردہ بارہ روزہ جنگ میں فوجی قیادتوں و اہم سائنسدانوں کی شہادتوں کے باوجود بھی دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔

صدر مجلس ذاکرین امامیہ نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نے راہ خدا میں جو پُرخلوص جدوجہد کی، اسے قبول کرتے ہوئے خدا نے شہید سلیمانی کی بامقصد حیات کو عظیم شہادت سے متصل کر دیا، ہمیں بھی ان شہدائے مقاومت کی مانند عالمی طاغوتی طاقتوں، مستکبرین سے برسرپیکار رہتے ہوئے دنیا میں نظام الٰہی کے قیام اور مظلومین جہان کی حمایت میں اپنی زندگی گزاریں گے، یہی وہ وصیت ہے، جسے بیان کرتے ہوئے امیرالمومنین مولا علیؑ نے کہا کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کے مددگار رہنا، ہمیں بھی اس پر عمل پیرا رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے مقاومت نے اپنی مزاحمت سے عالمی طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنایا، انہیں پسا کیا، انہیں دنیا بھر میں رسوا کر دیا۔

ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار اگر کسی نے آگے بڑھتے ہوئے صہیونی اسرائیل کا راستہ روکا وہ حضرت امام خمینیؒ اور انکی قیادت میں آئے انقلاب اسلامی ایران تھا، اس کے بعد حزب اللہ نے لبنان سے اسرائیل کا قبضہ چھڑوایا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے محور مقاومت کے شہداء الگ الگ شخصیات نہیں بلکہ ایک ہی نظریہ مزاحمت و مقاومت ہیں، شہدائے مقاومت نے ناصرف جان بلکہ اپنے مال آل و اولاد بھی راہ مزاحمت و مقاومت میں قربان کر دیئے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رہبری میں دنیا بھر کی طاغوتی طاقتوں کے مقابل مزاحمت و مقاومت جاری ہے، جس میں بہت بڑا کردار شہید قدس جنرل قاسم سلیمانی کا ہے، جنہوں نے محور مقاومت و مزاحمت کو مربوط، متحد و مضبوط بنایا، اگر شہید سلیمانی یہ کارنامہ انجام نہ دیتے تو نہ عراق، ایران و پاکستان بچتے، نہ ہی افغانستان، سعودی عرب و ترکی بچتے۔

سیکریٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ شہید قاسم سلیمانی ہی تھے، جنہوں نے حماس و دیگر فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو جنگی ٹیکنالوجی، اسلحہ و تربیت فراہم کی، انہوں خودکفیل بنا کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا، غزہ کے نیچے پانچ سو کلومیٹر سرنگوں کا جال بھی شہید سلیمانی کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ ہے، جو آج بھی موجود ہے، مقبوضہ فلسطین میں حماس کے نوجوانوں کے ہاتھوں سات اکتوبر 2023ء کا طوفان الاقصیٰ بھی اسی کوشسوں کا نتیجہ ہے، جس نے صہیونی اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ شہید حسن نصراللہ، شہید اسماعیل ہنیہ، شہید یحیٰ سنوار و دیگر شہدائے مقاومت کے خون نے محور مقاومت کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام تر اقدامات کا ہدف اصل دشمن امریکا ہونا چاہیئے، اگر ہم نے امریکا کو چوٹ پہنچا دی تو اسرائیل سمیت تمام دشمن اپنی موت آپ مر جائینگے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہبر معظم سید علی خامنہ ای ڈاکٹر معراج الہدی پاکستان کے مرکزی انہوں نے کہا کہ شہدائے مقاومت انقلاب اسلامی مظلومین جہان نے کہا کہ ا ایران میں اسلامی ا جنہوں نے دنیا میں کے اندر کر دیا ئے تھے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران