زارا نور عباس کی والدین بننے کے احساسات پر مبنی دل چھو لینے والی پوسٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
زارا نور عباس کی والدین بننے کے احساسات پر مبنی جذباتی پوسٹ نے مداحوں کا دل چھولیا ہے۔
پاکستانی اداکارہ زارا نور عباس نے حال ہی میں والدین بننے کے تجربے اور خاص طور پر ماں بننے کے سفر پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا ہے، جس نے مداحوں کے دلوں کو چھو لیا۔
یہ بھی پڑھیں: زارا نور عباس بیٹی کا چہرہ مداحوں سے کیوں چھپا رہی ہیں؟
خاموشی اور عہدِ وفا میں اپنی اداکاری سے پہچان بنانے والی زارا نور عباس نے اپنے انسٹاگرام اسٹوریز پر ایک جذباتی تحریر شیئر کی، جس میں انہوں نے ماں بننے کی مشکلات بیان کی اور خوشی کا اظہار کیا۔
زارا نور عباس نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی نہ تو ان کا کیریئر ہے، نہ گھر اور نہ ہی کمائی گئی دولت، بلکہ وہ بے خوابی کی راتیں ہیں جو انہوں نے گزاریں، وہ ننھے ہاتھ ہیں جو انہوں نے تھامے، وہ ہنسی، آنسو اور وہ گلے لگانا ہے جس نے انہیں اندر سے شفا دی۔
ان کے اس پیغام کو مدرہُڈ کے حقیقی احساسات کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے، ان کی اس تازہ پوسٹ نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور والدین بننے کے سفر میں پیش آنے والی جذباتی کیفیات کو خوب سراہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ انصاری کی بھانجی زارا نور عباس دوسری مرتبہ ماں بن گئیں
مداحوں کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ میں زارا نور عباس نے پیرنٹنگ کے چیلنجز اور اس سے جڑی خوشیوں کو نہایت سادگی اور سچائی سے بیان کیا ہے۔
واضح رہے کہ زارا نور عباس نے دسمبر 2017 میں ؤ اداکار اسد صدیقی سے شادی کی تھی۔ 2021 میں ایک المناک اسٹیلبرتھ کے تجربے کے بعد مارچ 2024 میں ان کے ہاں بیٹی نورِ جہاں صدیقی کی پیدائش ہوئی، جسے وہ اپنی زندگی کی ایک بڑی نعمت قرار دیتی ہیں۔
گزشتہ ماہ زارا نور عباس نے اپنی شادی کی 8ویں سالگرہ بھی منائی، جس موقع پر انہوں نے اپنے شوہر کے لیے محبت بھرا نوٹ تحریر کیا۔ اس پیغام میں انہوں نے ازدواجی زندگی کے سفر کو ایک خوبصورت رولر کوسٹر قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے پر فخر کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’میری بیٹی کی ویڈیوز ڈیلیٹ کریں‘ زارا نور عباس صارفین پر برہم
پروفیشنل محاذ پر زارا نور عباس اس وقت ڈراما سیریل ایک جھوٹی کہانی میں سینیئر اداکار محب مرزا کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ شاندار اداکاری کے باعث وہ ایک بار پھر ناظرین اور ناقدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news زارا نور عباس کامیابی والدین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کامیابی والدین والدین بننے کے انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔