data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے تیار کردہ 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وِٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ اب جنگ بندی سے آگے بڑھ کر ڈی ملٹرائزیشن، ٹیکنوکریٹک حکومت اور تعمیرِ نو کے مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔

وِٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی، جسے “نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی)” کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی مکمل ڈی ملٹرائزیشن اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرے گی، جن میں آخری ہلاک یرغمالی کی لاش کی فوری واپسی بھی شامل ہے، اس میں ناکامی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

اسٹیو وِٹکوف نے مزید بتایا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران تاریخی انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی کو برقرار رکھا گیا، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا اور 28 میں سے 27 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس لائی گئیں۔ انہوں نے اس پیش رفت میں مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ان کی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے تقریباً 1200 مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار