غزہ کیلیے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع، امریکی ایلچی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے تیار کردہ 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وِٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ اب جنگ بندی سے آگے بڑھ کر ڈی ملٹرائزیشن، ٹیکنوکریٹک حکومت اور تعمیرِ نو کے مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔
وِٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی، جسے “نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی)” کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی مکمل ڈی ملٹرائزیشن اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرے گی، جن میں آخری ہلاک یرغمالی کی لاش کی فوری واپسی بھی شامل ہے، اس میں ناکامی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
اسٹیو وِٹکوف نے مزید بتایا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران تاریخی انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی کو برقرار رکھا گیا، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا اور 28 میں سے 27 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس لائی گئیں۔ انہوں نے اس پیش رفت میں مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ان کی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے تقریباً 1200 مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں