حیدرآبادو لیاقت یونیورسٹی کے تعاون سے ایک روزہ تربیتی پروگرام
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کے باہمی تعاون سے فنڈا مینٹل آف فاریزنک سائنس اینڈ ڈی این ای ٹیسٹنگ کے عنوان سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ لیاقت یونیورسٹی جامشورو میں منعقد ہوا ورکشاپ میں حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی پروگرام کا مقصد قانونی ماہرین کو فارنزک سائنس، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور جدید سائنسی شواہد کے حوالے سے عملی اور نظریاتی آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ فوجداری مقدمات میں سائنسی شہوائد کی اہمیت کو مؤثر انداز میں سمجھا جا سکے۔ ورکشاپ کے دوران ملک کے نامور فارنزک ماہرین، پروفیسرز اور ڈاکٹروں نے اپنے تحقیقی اور عملی تجربات شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔ مختلف سیشنز میں فارنزک سائنس ایویڈنس، فنگر پرنٹنگ، مشتبہ دستاویزات کی جانچ، کمپیوٹر فارنزکس، ٹاکسیکالوجی، لیبارٹری تجزیہ، ڈی این اے ٹیسٹنگ، کرائم سین ایگزامینیشن، میڈیکولیگل اہمیت اور بلڈ اسپیٹر پیٹرن اینالیسس جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی لیکچرز دیے گئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے کہا کہ فارنزک سائنس اور ڈی این اے ٹیسٹنگ جدید نظامِ انصاف کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ترقی کے ساتھ قانون اور طب کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوا ہے جس سے بے گناہوں کو انصاف اور مجرموں کو سزا دلانے میں مدد مل رہی ہے ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے کہا کہ وکلاء کے لیے ضروری ہے کہ وہ میڈیکولیگل اور فارنزک معاملات کی بنیادی سمجھ حاصل کریں کیونکہ اب عدالتوں میں فیصلے صرف زبانی شہادت کے بجائے سائنسی شواہد کی بنیاد پر بھی کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ لیاقت یونیورسٹی آئندہ بھی بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر ایسی علمی اور تربیتی سرگرمیاں جاری رکھے گی وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ نہ صرف فوجداری مقدمات میں بلکہ خاندانی وراثتی اور دیگر قانونی معاملات میں بھی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس کی درست سمجھ بوجھ سے انصاف کی فراہمی کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت یونیورسٹی ڈی این اے ٹیسٹنگ نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم