کویت: رہائشی علاقوں میں قائم اسکول بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کویت سٹی(انٹرنیشنل ڈیسک) کویت کے وزیرِ برائے بلدیاتی امور عبداللطیف المشاری نے میونسپل کونسل کے فیصلے کی منظوری دے دی جس کے تحت رہائشی علاقوں میں قائم نجی اسکولوں کو 2028 کے تعلیمی سال کے اختتام تک بند کر دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حوالے سے متعلق منعقدہ اجلاس میں کویت کے وزیرِ برائے بلدیاتی امور عبداللطیف المشاری نے ایک شق کا اضافہ بھی کیا، جس کے مطابق نجی اسکولوں کے لیے مختص کردہ مقامات اس وقت تک حوالے نہیں کیے جائیں گے جب تک جنرل ٹریفک ڈیپارٹمنٹ سے منظوری حاصل نہ کر لی جائے۔ انہوں نے میونسپل کونسل کی جانب سے پہلے سے منظور کیے گئے بعض فیصلوں پر اپنے اعتراضات کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کاروباری اداروں، بشمول کریانہ اسٹورز، غذائی اداروں اور مرکزی فوڈ مارکیٹس کے لیے فٹ پاتھ کے ایک حصے کو مشروبات اور پانی کے کولر رکھنے کے لیے لائسنس دینے کی تجویز کی مخالفت کی اور اس سلسلے میں وزارتی فیصلے میں ترمیم کی درخواست کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔