Jasarat News:
2026-07-24@01:43:00 GMT

فرانسیسی کسانوں کا ایک بار پھر پیرس میں ٹریکٹر مارچ

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس کے کسان ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ٹریکٹروں کے ساتھ پیرس میں داخل ہو گئے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق کسان فرانس کی بڑی لیبر یونیوں میں سے ایک ایف این ایس ای اے کے زیر انتظام تجارتی سمجھوتے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مرکوسر بلاک کا تجارتی سمجھوتا جنوبی امریکا کی سستی زرعی اجناس درآمدکر کے ملکی زراعت کو خطرے میں ڈال دے گا۔ یورپی یونین کے سب سے بڑے زرعی ملک فرانس کے اور دیگر رکن ممالک کے کاشتکار کئی ماہ سے اقوام متحدہ مرکوسر معاہدے اور متعدد مقامی مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پیرس پولیس نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں تقریباً 350 ٹریکٹروں نے حصہ لیا ۔ ٹریکٹروں پر سوار کسانوں کا ایک قافلہ آرک دے ٹرائیمف کے پاس جمع ہوا اور دوسرا فرانسیسی پارلیمان کی عمارت کے سامنے پہنچ گیا۔ لیبر یونین کے نائب صدر اور پیرس کے کسان ڈیمن گریفن نے کہا کہ یورپی پارلیمان کا موقف لیے بغیر مرکوسر معاہدہ منظور کیا گیا ہے۔ اس معاہدے سے ایسی غیر ملکی اجناس درآمدات کی جائیں گی جو ہم خود فرانس میں اْگا سکتے ہیں۔ یہ درآمدی زرعی اجناس فرانس کی کاشتکاری پر لاگو معیاروں سے بھی بری رکھی جائیں گی۔ گریفن نے کہا کہ کسان پارلیمان کے سامنے احتجاج کے بعد 20 جنوری کو اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان کے سامنے بھی مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ فرانس کی مخالفت کے باوجود جمعہ کے روز زیادہ تر مرکوسر بلاک کے ممالک نے معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔ معاہدے کے باعث کسانوں، حزبِ اختلاف اورعدم اعتماد تحریک کی تجویز دینے والی بعض جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔کوآرڈی نیشن رورالے نامی ایک اور کسان یونین نے جمعرات کے روز مظاہر ہ کیا تھا اور اپنے ٹریکٹر ایفل ٹاور اور آرک دے ٹرائیمف کے نیچے کھڑے کردیے تھے۔واضح رہے کہ جنوبی مشترکہ منڈی کو مرکوسور اور پرتگالی مرکوسول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک جنوبی امریکی تجارتی بلاک ہے جو 1991ء میں کے معاہدے اور 1994ء میں اورو پریٹو کے پروٹوکول کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ اس کے مکمل ارکان میں ارجنٹائن، برازیل، پیراگوئے اور یوراگوئے شامل ہیں۔ وینزویلا بھی مکمل رکن ہے لیکن یکم دسمبر 2016 ء سے اس کی رکنیت معطل ہے۔ دیگر منسلک ممالک میں بولیویا، چلی، کولمبیا، ایکواڈور، گیانا، پیرو اور سورینام ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل