Jasarat News:
2026-06-02@23:54:38 GMT

فرانسیسی کسانوں کا ایک بار پھر پیرس میں ٹریکٹر مارچ

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس کے کسان ایک ہفتے کے دوران دوسری بار ٹریکٹروں کے ساتھ پیرس میں داخل ہو گئے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق کسان فرانس کی بڑی لیبر یونیوں میں سے ایک ایف این ایس ای اے کے زیر انتظام تجارتی سمجھوتے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مرکوسر بلاک کا تجارتی سمجھوتا جنوبی امریکا کی سستی زرعی اجناس درآمدکر کے ملکی زراعت کو خطرے میں ڈال دے گا۔ یورپی یونین کے سب سے بڑے زرعی ملک فرانس کے اور دیگر رکن ممالک کے کاشتکار کئی ماہ سے اقوام متحدہ مرکوسر معاہدے اور متعدد مقامی مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پیرس پولیس نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں تقریباً 350 ٹریکٹروں نے حصہ لیا ۔ ٹریکٹروں پر سوار کسانوں کا ایک قافلہ آرک دے ٹرائیمف کے پاس جمع ہوا اور دوسرا فرانسیسی پارلیمان کی عمارت کے سامنے پہنچ گیا۔ لیبر یونین کے نائب صدر اور پیرس کے کسان ڈیمن گریفن نے کہا کہ یورپی پارلیمان کا موقف لیے بغیر مرکوسر معاہدہ منظور کیا گیا ہے۔ اس معاہدے سے ایسی غیر ملکی اجناس درآمدات کی جائیں گی جو ہم خود فرانس میں اْگا سکتے ہیں۔ یہ درآمدی زرعی اجناس فرانس کی کاشتکاری پر لاگو معیاروں سے بھی بری رکھی جائیں گی۔ گریفن نے کہا کہ کسان پارلیمان کے سامنے احتجاج کے بعد 20 جنوری کو اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان کے سامنے بھی مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ فرانس کی مخالفت کے باوجود جمعہ کے روز زیادہ تر مرکوسر بلاک کے ممالک نے معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔ معاہدے کے باعث کسانوں، حزبِ اختلاف اورعدم اعتماد تحریک کی تجویز دینے والی بعض جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔کوآرڈی نیشن رورالے نامی ایک اور کسان یونین نے جمعرات کے روز مظاہر ہ کیا تھا اور اپنے ٹریکٹر ایفل ٹاور اور آرک دے ٹرائیمف کے نیچے کھڑے کردیے تھے۔واضح رہے کہ جنوبی مشترکہ منڈی کو مرکوسور اور پرتگالی مرکوسول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک جنوبی امریکی تجارتی بلاک ہے جو 1991ء میں کے معاہدے اور 1994ء میں اورو پریٹو کے پروٹوکول کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ اس کے مکمل ارکان میں ارجنٹائن، برازیل، پیراگوئے اور یوراگوئے شامل ہیں۔ وینزویلا بھی مکمل رکن ہے لیکن یکم دسمبر 2016 ء سے اس کی رکنیت معطل ہے۔ دیگر منسلک ممالک میں بولیویا، چلی، کولمبیا، ایکواڈور، گیانا، پیرو اور سورینام ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں