آئی ٹی سی این ایشیا نمائش 17 سے 19 جنوری کو ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک) پاکستان کی سب سے بڑی اور جدید ٹیکنالوجی و اختراعی نمائش آئی ٹی سی این ایشیا کا 27واں ایڈیشن 17 سے 19 جنوری تک ایکسپو سینٹر لاہور میں منعقد ہوگا۔ نمائش پاکستان کے ڈیجیٹل، اسٹارٹ اپ اور آئی ٹی ایکو سسٹم کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گی۔ نمائش کا انعقاد ای کامرس گیٹ وے پاکستان کے زیرِ اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان بطور پریزنٹنگ پارٹنر شامل ہے۔ یہ ایونٹ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی سرپرستی اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے اسٹرٹیجک تعاون سے منعقد ہو رہا ہے، جو پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری، برآمدات اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے حکومتی عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ نمائش میں 800 سے زائد اسٹالز اور 3,500 سے زائد عالمی و مقامی برانڈز کی شرکت کے ساتھ آئی ٹی سی این ایشیا میں 75 ہزار سے زائد شرکا کی آمد متوقع ہے۔ان میں 18,500 سے زائد فیصلہ ساز افراد، 850 سے زائد حکومتی و صنعتی رہنما جبکہ امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اٹلی، چین سمیت مختلف ممالک سے 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین شرکت کریں گے، جو پاکستان میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی تعاون کے نئے مواقع تلاش کریں گے۔ نمائش کے ذریعے 750 ملین امریکی ڈالر سے زائد کے کاروباری مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو اسے ایک موثر تجارتی اور سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے طور پر اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔نمائش میں گورنمنٹ ٹیکنالوجی، کلاڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت ، فن ٹیک، انٹرپرائز سلوشنز اور اسٹارٹ اپس جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ یہ ایونٹ نئی مصنوعات کے اجرا، اسٹرٹیجک معاہدوں، سرمایہ کاری کے اعلانات اور بزنس نیٹ ورکنگ کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ آئی ٹی سی این ایشیا کے دوران اعلیٰ سطح کی ملٹی ٹریک کانفرنسز بھی منعقد کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ٹی سی این ایشیا سرمایہ کاری
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔