سیاحت پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے اہم، پاکستان سیاحت کے فروغ سے IMF پر انحصار کم کرسکتا ہے، ارگل کاداک
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) کراچی میں تعینات ترکیہ کے قونصل جنرل ارگل کاداک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سیاحت پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ایک ایسا شعبہ ہے جو کم محنت میں زیادہ نتائج دے سکتا ہے اور اسے درست انداز میں فروغ دینے سے پاکستان آئی ایم ایف جیسے بیرونی مالیاتی اداروں پر انحصار نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کے سی سی آئی کے صدر محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد عارف لاکھانی، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی احسن ارشد شیخ، چیئرمین سب کمیٹی برائے فیئرز، ایگزیبیشنز اینڈ ٹریڈ ڈیلیگیشنز عمران معیز اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ ترکیہ کے قونصل جنرل کہا کہ ترکش سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کرنے کے لیے مثبت، مستند اور قابلِ اعتماد کامیابی کی کہانیاں بے حد ضروری ہیں۔ انہوں نے1990 کی دہائی میں استنبول کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو بھی آج اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے تاہم اس کے پاس بھی تبدیلی اور ترقی کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور کراچی کا مثبت امیج اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو فعال طور پر شامل کیا جائے کیونکہ آج کے دور کے سیاح بالخصوص ترکیہ سے سفر کرنے والے معلومات کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دلکش ساحلی پٹیاں، خوبصورت ساحل، تاریخی و ثقافتی ورثہ اور قدرتی حسن سمیت بہت کچھ موجود ہے مگر ان تمام صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے شہری سہولتوں اور سیکورٹی سے متعلق مسائل کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔انہوں نے ویزہ فیس سے متعلق تحفظات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ معاملہ متعدد حلقوں کی جانب سے اٹھایا گیا ہے جو ہر سال ترکیہ کی وزارتِ خزانہ کے تحت ہیڈکوارٹرز میں نظرِ ثانی کے بعد طے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ خدشات متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔انہوں نے ویزہ پروسیسنگ میں تاخیر کے سوال پر بتایا کہ عام طور پر درخواست دہندگان کو دو ہفتوں کے اندر پاسپورٹ مل جاتا ہے جو کہ ایک مناسب وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 95 فیصد درخواستیں اسی مدت میں نمٹائی جاتی ہیں اور ویزہ کے اجراء کا نظام پہلے سے کافی حد تک بہتر ہو چکا ہے۔انہوں نے تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) پر مذاکرات جاری ہیں اور یہ دونوں حکومتوں کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔یہ معاہدہ پاکستان، ترکیہ جوائنٹ اکنامک کمیشن کے تحت ایک اہم ہدف ہے اور اس حوالے سے اکتوبر میں اسلام آباد میں ایک پروٹوکول پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔قبل ازیں صدر کے سی سی آئی محمد ریحان حنیف نے ترکیہ کے قونصل جنرل کا پرتباک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ٹیکسٹائل، تعمیرات، انجینئرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکلز، فوڈ پروسیسنگ، سیاحت، توانائی، آئی ٹی اور دفاعی صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے ترکیہ کی جانب سے پاکستان کے قومی مفاد کے معاملات پر مستقل حمایت کو بھی سراہا جس سے باہمی اعتماد اور خیرسگالی مزید مستحکم ہوئی ہے۔صدر کے سی سی آئی نے ترکیہ کے قونصلیٹ کے کردار کو بھی سراہا جو بزنس ٹو بزنس روابط، تجارتی وفود اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا تعاون پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی قونصلیٹ کے ساتھ مل کر مشترکہ بزنس فورمز، بی ٹوبی ملاقاتیں، تجارتی نمائشیں اور سرمایہ کاری روڈ شوز منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے ترکش کمپنیوں کو مائی کراچی نمائش میں شرکت کی دعوت دی جو 6 تا 8 فروری 2026 کو منعقد ہوگی۔ یہ نمائش کے سی سی آئی کی جانب سے ہر سال 2004 سے منعقد کی جا رہی ہے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیاکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو مزید مستحکم بنایا جائے گا اور دیرینہ دوستی کو عملی اور ٹھوس معاشی نتائج میں تبدیل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے سی سی ا ئی کہ پاکستان کرتے ہوئے پاکستان ا ترکیہ کے انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔