اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین سے ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں دونوں فریقین نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوستانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبہ جات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک میں اقتصادی شعبوں، بالخصوص لائیو اسٹاک اور مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وافر مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کے معدنی وسائل میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں قائم پاک۔آسٹریلیا پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔آسٹریلیا کے ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے پاکستانی قوم کو ثابت قدم اور مہمان نواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد آسٹریلیا کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی سرمایہ کار پاکستان کے مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اور آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔مزید برآں، آسٹریلوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے جمہوری نظام اور پارلیمانی اداروں کے مثر کردار کو سراہتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں قومی اسمبلی کے فعال کردار کی تعریف کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجوڈیشل کمیشن کی پشاور ہائیکورٹ کے 6ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری جوڈیشل کمیشن کی پشاور ہائیکورٹ کے 6ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری پاکستان میں فلپائن کے سابق سفیر سموئل ٹی رمیل کی وفات، تعزیت کا اظہار آئی ایم ایف کے بغیر اور برآمدات پر منحصر معاشی گروتھ کیلئے 3 کمیٹیاں قائم وفاقی آئینی عدالت کا ارشد شریف قتل کیس جلد نمٹانے کا عندیہ لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کو بری کر دیا ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق آسٹریلیا کے ہائی کمشنر

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟