کرپشن کے باعث سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہورہے تھے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ ہے، سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہورہے تھے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جب کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن پر عمل جاری ہے ۔ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے لیے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں ۔ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی تناظر میں یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ جتنی ڈیوٹیز بڑھائی جاتی ہیں وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے، تاہم گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی جب کہ رواں مالی سال بھی اس مد میں اخراجات میں بچت کی جائے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ ایک سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم کرنٹ اکاؤنٹ ہدف کے اندر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے ۔ نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ارب روپے مالی سال نے کہا
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر