ان ڈرائیو اور کریو مارٹ کے اشتراک سے گروسری ڈیلیوری سروس کا آغاز !
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)عالمی موبیلیٹی اور سروسز پلیٹ فارم ان ڈرائیو(inDrive)نے پاکستان میں اپنی خدمات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہو ئے کریومارٹ (Krave Mart)کے ساتھ اشتراک میں ان ڈرائیو گروسریز (inDrive.Groceries) کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی سروس کے ذریعے صارفین ان ڈرائیو(inDrive)ایپ کے اندر ہی روزمرہ کی ضروری اشیاء آرڈر کر سکیں گے، جس سے کراچی میں تیز، قابل اعتماد اور کم قیمت پر گروسری ڈیلیوری ممکن ہو سکے گی۔ اس سروس کو 2026 کے دوران لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔یہ توسیع پاکستان کی مارکیٹ کے لیے موزوں ایک سپر ایپ تشکیل دینے کے ان ڈرائیو(inDrive)کے اسٹرٹیجک روڈ میپ کی عکاس ہے، جہاں موبیلیٹی، ڈیلیوری اور روزمرہ ضروریات ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا ہوں گی۔ ایپ میں گروسری ڈیلیوری کو شامل کر کے ان ڈرائیو (inDrive) کا مقصد صارفین کی وابستگی بڑھانا،مختلف طرح خدمات کو شامل کرنا اور صارفین کو شفافیت، انصاف اور انتخاب پر مبنی یکساں تجربہ فراہم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ان ڈرائیو
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔