ٹنڈوالٰہیارمیں اشیا خورونوش کی قیمتوںمیں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارتٹنڈوالٰہیار میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے لگام اور خود ساختہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جس کے باعث عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ آٹا، گوشت، دالیں، چاول، برائلر چکن، لکڑی اور LPG گیس سمیت روز مرہ استعمال کی تقریباً تمام اشیا کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں، جبکہ ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کنٹرول نظر نہیں آرہا۔ذرائع کے مطابق ایک جانب سندھ حکومت آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے متحرک ہے، تاہم دوسری جانب مہنگائی مافیا سرکاری نرخوں کو کھلے عام نظر انداذ کرتے ہوئے حکومت کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے ٹنڈوالٰہیار حکومت کی جانب سے آٹے کی سرکاری قیمتیں 10 کلو گرام تھیلا 905 روپے، 15 کلو گرام 1360 روپے اور 20 کلو گرام 1810 روپے مقرر کی گئی ہیں، مگر مارکیٹ میں یہی آٹا 10 کلو گرام 1100 روپے، 15 کلو گرام 1800 روپے اور 20 کلو گرام 2200 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے تشویشناک امر یہ ہے کہ جن دکانوں کو سرکاری کوٹے کا آٹا فراہم کیا گیا ہے، وہاں بھی آٹا غائب کرکے غریب عوام کی پہنچ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی انکشاف ہے کہ سرکاری آٹا مبینہ طور پر ہوٹلوں کو مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے، جس کے باعث مستحق شہری خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔ آٹا چکیوں پر بھی صورتحال قابو سے باہر ہے، جہاں آٹے کی قیمت 4800 روپے فی من سے تجاوز کرتے ہوئے 5000 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے۔سرد موسم میں ایندھن کی قیمتوں نے بھی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ لکڑی اور LPG گیس کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں تحصیل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے باوجود LPG گیس کی قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اس وقت تحصیل بھر میں LPG گیس غیر قانونی ری فلنگ کے ذریعے 360 سے 380 روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے، جبکہ لکڑی 1200 سے 1500 روپے فی من میں فروخت ہورہی ہے۔ ضلع بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں سرعام گیس کی غیر قانونی ری فلنگ جاری ہے جو انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے برائلر چکن کی قیمتیں بھی سرکاری ریٹ لسٹ سے کہیں زیادہ وصول کی جارہی ہیں مارکیٹوں میں برائلر چکن 650 سے 700 روپے فی 900 گرام کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے جو عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کال کمیٹیاں کی جانب سے کارروائیاں اور جرمانے کیے جارہے ہیں، تاہم اس کے باوجود مہنگائی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ دکاندار جرمانوں کے بعد عوام سے دگنی قیمتیں وصول کرکے اپنی تلافی کر لیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی جانب سے کی قیمتوں کلو گرام ا رہا ہے روپے فی
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔