Jasarat News:
2026-07-24@03:06:33 GMT

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا سیاسی رومانس

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-03-2
پیپلز پارٹی کی قیادت کے بقول ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن ریاست کے مفاد میں ہم حکومت کے اتحادی ہیں اور تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود ہم حکومت کے اتحادی بھی رہیں گے اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے حکومت کی بدستور حمایت بھی جاری رکھیں گے۔ جو کچھ بلاول زرداری نے کہا وہ درست ہے اور پیپلز پارٹی حکومت میں براہ راست نہ ہونے کے باوجود اس حکومت کی حمایت کی وجہ سے اقتدار کی سیاست میں حکومت سے منافع بخش سیاسی قیمت بھی وصول کررہی ہے۔ آصف علی زرداری کی بطور صدر ایوان صدر میں موجودی، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان اور سندھ حکومت، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں گورنرز، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی حکومت کی سطح پر انتظامی عہدوں پر من پسند تقرر، آزادکشمیر حکومت اور پنجاب میں ترقیاتی فنڈز کا حصول کو اقتدار کی سیاست ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ جو ہمیں دونوں بڑی پارٹیوں بالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ کے خلاف سیاسی نوک جھوک یا پٹاخے اور پھلجھڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں یا کبھی پی پی پی اپوزیشن بننے کا تاثر دیتی ہے تو اس کی وجہ جہاں اس کی سیاسی ساکھ کا بحران ہے وہیں وہ اس بحران کو بنیاد بناکر حکومت پر دباؤ ڈال کر مزید اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنی قیمت اور وصولی بڑھانا ہوتی ہے۔ یہ سیاسی داؤ پیچ اور گُر یا سیاسی کارڈ آصف زرداری کو خوب کھیلنے آتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ طاقت کے مراکز کے ساتھ اپنے کارڈ کیسے کھیلنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی خود کو حکومت تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے اور حکومت کے ساتھ پائور شیرنگ میں بھی آگے کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس دوہرے معیار پر مسلم لیگ ن کے کچھ لوگ نالاں نظر آتے ہیں لیکن ان کے پاس اقتدار کی سیاسی بقا کے لیے کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر وہ پی پی پی کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں یا ان کے سیاسی نخرے اُٹھا رہے ہیں۔ ویسے بھی دونوں بڑی جماعتوں کا سیاسی بندوبست غیر سیاسی قوتوں کی وجہ سے ہے اور یہ شادی عملاً زبردستی کی شادی بھی ہے۔ لیکن عمران خان سے نمٹنے کے لیے ان دونوں جماعتوں کو جوڑ کر رکھنا بڑی قوتوں کی مجبوری بھی ہے۔ اس لیے یہ دونوں بڑی جماعتیں کچھ بھی ہو جائے ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھڑی رہیں گی اور دونوں جماعتیں عمران خان دشمنی میں سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے پرانی تنخواہ پرکام کرتی رہیں گی اور جو بھی ان میں سے ریڈ لائین کراس کرے گا اسے اچھے بچوں کی طرح ایک دوسرے کی حمایت میں بٹھا دیا جائے گا۔ کیونکہ جب ملک میں اصولوں کے بجائے طاقت اور اقتدار کی سیاست کو غلبہ ہے تو ایسے میں دونوں بڑی جماعتوں کا کردار یہی ہونا چاہیے جو وہ آج کی سیاست اور سیاسی فیصلوں میں کررہے ہیں۔ ویسے اس وقت جو سیاسی بحران ہے یا معیشت سمیت سیکورٹی کی سنگینی ہے اس کی ذمے دار بھی یہی دو بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہے۔ جمہوریت اور سیاست کا کمزور ہونا یا جمہوری عمل کا دور ہونا، عدلیہ کی آزادی پر ضرب کاری، میڈیا اور آزادیٔ اظہار کی بندش، انسانی حقوق کی پامالی، اداروں کا سیاسی استعمال، اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خود کو بے بس سمجھنا اور 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کی حمایت نے پی پی پی اور ن لیگ کے جمہوری تشخص کو بری طرح سے خراب کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا حد سے زیادہ کنٹرول اور سیاسی حکومت کا کمزور ہونے میں بھی ان ہی دونوں جماعتوں کا برابر کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور بالخصوص آصف زرداری نے طے کرلیا ہے ان کی جماعت نے خود کو اقتدار کی سیاست سے علٰیحدہ نہیں کرنا اور اسی لیے یہ دونوں جماعتیں ایک سے بڑھ کر ایک طاقت ور طبقہ کی سہولت کاری میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں بڑی جماعتوں کا کردار قوم پر بوجھ بن گیا ہے اور ان کے پاس موجودہ حالات کی بہتری کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔ خود اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں میں بھی ان کو بوجھ کے طور پر لیا جارہا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی ہوگی کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی رومانس کی ایک بڑی بھاری قیمت ریاست اور اس کے عوام کو نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ کیونکہ ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو کوئی فکر نہیں اور نہ ہی ان کا اس ملک کے ریاستی نظام میں کوئی بڑا اسٹیک ہے اس لیے لوگ کس حال میں ہیں ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو زیادہ عرصہ تک بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا اور لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں اور اس کا ذمے دار کون ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا اقتدار کی سیاست اور سیاسی بقا کا ایجنڈا بھی اسی نکتے سے جڑا ہوا ہے ہم اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت رہیں اور پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کا کھیل بھی بدستور قائم رہے۔ اس لیے جو لوگ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی اختلاف کی چائے کی پیالی میں سے طوفان ڈھونڈ رہے ہیں انہیں مایوسی ہوگی، ایسا کچھ نہیں ہوگا اور یہ دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک دوسرے کی مدد اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ اپنا کھیل کل بھی کھیل رہے تھے اور آج بھی یہ کھیل وہ پوری طاقت کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ یہی ہماری قومی سیاست کا بڑا المیہ بھی ہے جہاں ریاست اور عوام کے مفاد کے مقابلے میں اہل اقتدار کے ذاتی مفاد زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقتدار کی سیاست دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی جماعتوں کا دونوں بڑی مسلم لیگ کی حمایت پی پی پی ہیں اور کے ساتھ ہے اور بھی ان کی وجہ اور اس

پڑھیں:

پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش

فوٹو: فائل

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔

پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش