Jasarat News:
2026-06-03@00:52:42 GMT

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا سیاسی رومانس

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-03-2
پیپلز پارٹی کی قیادت کے بقول ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن ریاست کے مفاد میں ہم حکومت کے اتحادی ہیں اور تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود ہم حکومت کے اتحادی بھی رہیں گے اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے حکومت کی بدستور حمایت بھی جاری رکھیں گے۔ جو کچھ بلاول زرداری نے کہا وہ درست ہے اور پیپلز پارٹی حکومت میں براہ راست نہ ہونے کے باوجود اس حکومت کی حمایت کی وجہ سے اقتدار کی سیاست میں حکومت سے منافع بخش سیاسی قیمت بھی وصول کررہی ہے۔ آصف علی زرداری کی بطور صدر ایوان صدر میں موجودی، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان اور سندھ حکومت، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں گورنرز، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی حکومت کی سطح پر انتظامی عہدوں پر من پسند تقرر، آزادکشمیر حکومت اور پنجاب میں ترقیاتی فنڈز کا حصول کو اقتدار کی سیاست ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ جو ہمیں دونوں بڑی پارٹیوں بالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ کے خلاف سیاسی نوک جھوک یا پٹاخے اور پھلجھڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں یا کبھی پی پی پی اپوزیشن بننے کا تاثر دیتی ہے تو اس کی وجہ جہاں اس کی سیاسی ساکھ کا بحران ہے وہیں وہ اس بحران کو بنیاد بناکر حکومت پر دباؤ ڈال کر مزید اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنی قیمت اور وصولی بڑھانا ہوتی ہے۔ یہ سیاسی داؤ پیچ اور گُر یا سیاسی کارڈ آصف زرداری کو خوب کھیلنے آتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ طاقت کے مراکز کے ساتھ اپنے کارڈ کیسے کھیلنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی پی پی خود کو حکومت تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے اور حکومت کے ساتھ پائور شیرنگ میں بھی آگے کھڑی نظر آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس دوہرے معیار پر مسلم لیگ ن کے کچھ لوگ نالاں نظر آتے ہیں لیکن ان کے پاس اقتدار کی سیاسی بقا کے لیے کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر وہ پی پی پی کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں یا ان کے سیاسی نخرے اُٹھا رہے ہیں۔ ویسے بھی دونوں بڑی جماعتوں کا سیاسی بندوبست غیر سیاسی قوتوں کی وجہ سے ہے اور یہ شادی عملاً زبردستی کی شادی بھی ہے۔ لیکن عمران خان سے نمٹنے کے لیے ان دونوں جماعتوں کو جوڑ کر رکھنا بڑی قوتوں کی مجبوری بھی ہے۔ اس لیے یہ دونوں بڑی جماعتیں کچھ بھی ہو جائے ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھڑی رہیں گی اور دونوں جماعتیں عمران خان دشمنی میں سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے پرانی تنخواہ پرکام کرتی رہیں گی اور جو بھی ان میں سے ریڈ لائین کراس کرے گا اسے اچھے بچوں کی طرح ایک دوسرے کی حمایت میں بٹھا دیا جائے گا۔ کیونکہ جب ملک میں اصولوں کے بجائے طاقت اور اقتدار کی سیاست کو غلبہ ہے تو ایسے میں دونوں بڑی جماعتوں کا کردار یہی ہونا چاہیے جو وہ آج کی سیاست اور سیاسی فیصلوں میں کررہے ہیں۔ ویسے اس وقت جو سیاسی بحران ہے یا معیشت سمیت سیکورٹی کی سنگینی ہے اس کی ذمے دار بھی یہی دو بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہے۔ جمہوریت اور سیاست کا کمزور ہونا یا جمہوری عمل کا دور ہونا، عدلیہ کی آزادی پر ضرب کاری، میڈیا اور آزادیٔ اظہار کی بندش، انسانی حقوق کی پامالی، اداروں کا سیاسی استعمال، اسٹیبلشمنٹ کے سامنے خود کو بے بس سمجھنا اور 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کی حمایت نے پی پی پی اور ن لیگ کے جمہوری تشخص کو بری طرح سے خراب کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا حد سے زیادہ کنٹرول اور سیاسی حکومت کا کمزور ہونے میں بھی ان ہی دونوں جماعتوں کا برابر کا حصہ ہے۔ پیپلز پارٹی اور بالخصوص آصف زرداری نے طے کرلیا ہے ان کی جماعت نے خود کو اقتدار کی سیاست سے علٰیحدہ نہیں کرنا اور اسی لیے یہ دونوں جماعتیں ایک سے بڑھ کر ایک طاقت ور طبقہ کی سہولت کاری میں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں بڑی جماعتوں کا کردار قوم پر بوجھ بن گیا ہے اور ان کے پاس موجودہ حالات کی بہتری کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔ خود اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں میں بھی ان کو بوجھ کے طور پر لیا جارہا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی ہوگی کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی رومانس کی ایک بڑی بھاری قیمت ریاست اور اس کے عوام کو نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ کیونکہ ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو کوئی فکر نہیں اور نہ ہی ان کا اس ملک کے ریاستی نظام میں کوئی بڑا اسٹیک ہے اس لیے لوگ کس حال میں ہیں ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو زیادہ عرصہ تک بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا اور لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں اور اس کا ذمے دار کون ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا اقتدار کی سیاست اور سیاسی بقا کا ایجنڈا بھی اسی نکتے سے جڑا ہوا ہے ہم اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت رہیں اور پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ کا کھیل بھی بدستور قائم رہے۔ اس لیے جو لوگ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سیاسی اختلاف کی چائے کی پیالی میں سے طوفان ڈھونڈ رہے ہیں انہیں مایوسی ہوگی، ایسا کچھ نہیں ہوگا اور یہ دونوں جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں ایک دوسرے کی مدد اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ اپنا کھیل کل بھی کھیل رہے تھے اور آج بھی یہ کھیل وہ پوری طاقت کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ یہی ہماری قومی سیاست کا بڑا المیہ بھی ہے جہاں ریاست اور عوام کے مفاد کے مقابلے میں اہل اقتدار کے ذاتی مفاد زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقتدار کی سیاست دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی جماعتوں کا دونوں بڑی مسلم لیگ کی حمایت پی پی پی ہیں اور کے ساتھ ہے اور بھی ان کی وجہ اور اس

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے