Jasarat News:
2026-07-24@04:56:04 GMT

ڈاکٹر محمد کمال کی عظمت اور ان کی یادیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260115-03-4
مرحوم ڈاکٹر محمد کمال ایک باعزت اور کامیاب زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوگئے وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر رہے۔ کامیاب زندگی اس شخص کی ہے جو اپنا مقصد زندگی رضائے الٰہی کو بنائے اور اس کے حصول کے لیے پوری زندگی لگا دے۔ آج کی دنیا میں ایسے لوگ کم ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے عظیم المرتبت لوگوں میں ڈاکٹر محمد کمال کا نام سر فہرست آتا ہے۔ ڈاکٹر محمد کمال اسکول کی زندگی میں جمعیت سے متعارف ہوئے۔ میڈیکل کالج میں جمعیت کے نظم سے وابستہ ہوئے۔ اسلام کی دعوت کو لیکر نکلے اور جمعیت کے کارکن کی حیثیت سے ہر طرف جانے پہچانے لگے۔ اپنے عزم اور حوصلہ سے آگے بڑھتے گئے اور جمعیت کے رکن بن گئے اس طرح ان کے ذہن میں غلبہ دین اور جنت کی دھن سما گئی۔ اس لیے دن رات کام میں لگ گئے۔ اس عرصے میں وہ جمعیت میں پشاور شہر اور کالج کی ذمے داریوں پر فائز رہے۔

آپ نے نوجوانوں کی دینی اور عملی تربیت کی۔ 1963 میں ہم کراچی جمعیت سے وابستہ ہوئے۔ اور 1965 میں جمعیت کی رکنیت اختیار کی۔ ڈاکٹر کمال سے ہماری پہلی ملاقات 1966 میں سالانہ اجتماع لاہور میں ہوئی۔ سید منور حسن اس وقت ناظم اعلیٰ تھے اور ڈاکٹر محمد کمال ان کے ساتھ مرکزی ذمے داران میں شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب اچھے مقرر تھے اور اچھی اور مدلل گفتگو کرتے تھے۔ ان سے مرکزی شوریٰ اور اجتماع عام میں باقاعدگی سے رابط رہتا تھا۔ اس وقت پشاور جمعیت کا کام ان کی قیادت میں آگے بڑھ رہا تھا۔ 1977 میں سید منور حسن کی نظامت اعلیٰ کو تین سال مکمل ہوچکے تھے اس لیے اجتماع ارکان کے اختتام پر ناظم اعلیٰ کے انتخابات کے نتائج میں ڈاکٹر محمد کمال کا بحیثیت نئے ناظم اعلیٰ کے اعلان کیا گیا۔ ان کا نام حلف لینے کے لیے پکارا گیا تو وہ اٹھنے کو تیار ہی نہ تھے اور ان کے آنسو رکنے نہیں پارہے تھے ساتھیوں نے سہارا دیکر اُٹھایا جمعیت میں ناظم اعلیٰ کا حلف اٹھانا سب سے مشکل کام ہے اس لیے عام طور پر حلف کے موقع پر یہی سماں بندھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر کمال تو ویسے بھی ذمے داریوں سے بھاگتے تھے۔ بہرحال ساتھیوں نے دلاسہ دیکر حلف اٹھوایا۔

اس کے بعد وہ پوری طرح تنظیم چلانے میں مصروف ہوگئے۔ ناظم اعلیٰ کا دفتر کراچی میں تھا لیکن وہ پشاور میڈیکل کے طالب علم تھے اس لیے ان کا کراچی آنا جانا بہت لگا رہتا تھا۔ 1968 میں وہ دوبارہ ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے پاکستان کے چھوٹے بڑے تقریباً تمام شہروں کے دورے کیے۔ کراچی شوریٰ میں بھی شریک ہوئے۔ 1969 کے سال میں ملک میں کافی سیاسی ہلچل تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک عروج پر تھی۔ اکتوبر میں سالانہ اجتماع حیدرآباد میں منعقد کرنے کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر جمعیت نے اعلان کیا کہ اجتماع کے آخری دن ایک بڑا طلبہ مارچ ہوگا۔ ڈاکٹر محمد کمال کی قیادت میں حیدرآباد کی سڑکوں پر طلبہ کا ازدہام تھا۔ باقاعدہ 5 افراد کی لائنوں میں نہ ختم ہونے والا جلوس تھا۔ اللہ اکبر اور اسلامی انقلاب کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں جلوس آگے بڑھتا رہا۔ پولیس اور انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ طلبہ کا یہ سمندر اپنی منزل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اسی اجتماع کے موقع پر ڈاکٹر محمد کمال کی نظامت کو 2 سال مکمل ہوگئے تھے اس لیے اس مرتبہ پہلی دفعہ مشرقی پاکستان سے مطیع الرحمن نظامی کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

محترم کمال صاحب نے جمعیت سے فارغ ہوکر جماعت کی رکنیت کی درخواست دے دی اور ان کو فوری طور پر رکن بنالیا گیا۔ کچھ عرصے بعد کمال صاحب واہ کینٹ منتقل ہوگئے اور وہاں اپنی کلینک کا آغاز کیا۔ اس عرصے میں وہ جماعت کی مختلف ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ ہم ان سے ملنے واہ کینٹ گئے انہوں نے بہت ہی عزت اور مان دیا اور واہ کینٹ کی سیر کرائی۔ 1988 سے کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی، لسانیت اور تشدد کا دور شروع ہوا۔

جب حالات بے حد خراب تھے اس وقت امیر جماعت کراچی نعمت اللہ خان نے امیر جماعت پاکستان قاضی حسین احمد سے درخواست کی کہ وہ کراچی کے حالات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے لیے مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس کراچی میں رکھا جائے۔ مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس میٹروویل کراچی میں منعقد ہوا۔ ڈاکٹر کمال مرکزی شوریٰ کے رکن تھے۔ اس اجلاس میں وہ بڑے فعال تھے۔ اجلاس کے آغاز پر تلاوت کلام پاک انہوں نے کی۔ اجلاس کے دوران ارکان نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ اس کام میں ڈاکٹر کمال آگے تھے۔ اس زمانے میں ان سے قریبی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال رہا۔ 2009 میں سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہونے۔ وہ ڈاکٹر کمال کی قائدانہ صلاحیتوں سے واقف تھے اس لیے انہوں نے ان کو نائب امیر مقرر کیا۔ انہوں نے مرکز میں کافی کام کیے اور اپنی ذمے داریاں بحسن و خوبی نبھائیں۔ نائب امیر کی ذمے داریوں سے فارغ ہوکر وہ گھر پر نہیں بیٹھے اور جماعت کے ساتھ فعال رہے۔ اس پورے عرصے میں ان کے بڑے فرزند ڈاکٹر وقاص بھی ماشاء اللہ جمعیت سے فارغ ہوکر جماعت میں کام کرتے ہوئے اپنے والد کی جگہ سنبھال لی اور مرکزی شوریٰ کے رکن تک پہنچے۔ وہ درس و تدریس کے لیے معروف ہیں اور اپنا ایک یو ٹیوب بھی چلاتے ہیں۔

ڈاکٹر کمال اپنی شائستگی متانت علمی گہرائی اور عملی دیانت کے لیے جانے جاتے تھے ان کی گفتگو ہمیشہ دھیمی اور مدلل ہوتی۔ اور اس میں نظریاتی بلندی اور عملی توازن نظر آتا۔ وہ بلند اخلاق جماعتی لگن اخلاص اور خدمت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ عمر کے آخری حصے میں ان کی صحت گر گئی اور وہ صاحب فراش رہے۔ دین اسلام اور جماعت اسلامی کی خدمت کرتے ہوئے بروز اتوار 11 جنوری کو اللہ کی راہ میں جان جاں آفریں کو دے دی۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

محمد حسین محنتی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر محمد کمال ڈاکٹر کمال تھے اس لیے ناظم اعلی کراچی میں جمعیت سے انہوں نے کمال کی میں وہ اور ان کمال ا کے لیے

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی