Jasarat News:
2026-06-02@22:21:04 GMT

برآمدات میں مسلسل کمی…

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دسمبر میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 24 فی صد اضافہ، برآمدات میں 20 فی صد سے زائد کی بڑی گراوٹ، جبکہ درآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ دسمبر 2025 میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 23 عشاریہ 8 فی صد بڑھ کر 2.

855 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خسارے میں یہ اضافہ برآمدات میں 20 فی صد سے زائد کی کمی اور بیرون ملک سے ہونے والی در آمدات میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں ملک کی مصنوعات کی بیرون ملک فروخت (برآمدات) میں نمایاں کمی آئی۔ دسمبر 2025 کے دوران تجارتی خسارے میں گزشتہ برس کے اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 24 فی صد اضافہ ہوا جو بڑھ کر 3 عشاریہ 7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2024 میں ملک کا تجارتی توازن، یعنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 2 عشاریہ 99 ارب ڈالر خسارے کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ بڑھا جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں نمایاں کمی رہی۔ دسمبر 2025 میں برآمدات 2 عشاریہ 32 ارب ڈالر رہیں جو دسمبر 2024 میں ریکار ڈ ہونے والی 2 عشاریہ 91 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 20 عشاریہ 4 فی صد کم ہیں۔ دوسری جانب دسمبر 2025 میں درآمدات 6 عشاریہ 102 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے 5 عشاریہ 9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2 فی صد سے زائد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

مالی سال 26-2025 کے پہلے چھے ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 35 فی صد اضافے کے ساتھ 19 عشاریہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں یہ 14 عشاریہ 27 ارب ڈالر ر یکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ صورتحال کوئی زیادہ تسلی بخش نہیں ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی ادارے بلوم برگ پالیسی سطح پر استحکام کی مثبت خبریں دے رہا ہے اور مہنگائی میں کمی کو سراہ رہا ہے۔ ایسے میں جب شرح سود میں کمی اور مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے اندرونی معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، تجارتی خسارے کا بڑھنا ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم اپنی معاشی بحالی کو پائیدار بنا پارہے ہیں؟ ایسی صورت میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر برآمدات بڑھانے اور درآمدات کو کنٹرول کرنے کی جامع حکمت عملی اپنائے۔ غیر ضروری در آمدات پر پابندیاں سخت کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں تا کہ وہ عالمی منڈیوں میں مقابلہ کر سکیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو کبھی ملک کی برآمدات کا ستون تھا، اب شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی مقابلہ، توانائی کے بحران اور خام مال کی بلند قیمتوں نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فوری ریلیف پیج دے، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں خصوصی سبسڈی دے، اور جدید مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی میں رعایت لائے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات جیسے گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور بیڈ ویئر پر توجہ مرکوز کر کے ہم یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں اپنا حصہ دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹیکسٹائل کو ترجیح دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔

زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں کم وقت میں زیادہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ملک کی زرخیز زمینیں، دریا اور متنوع موسم اگر صحیح طریقے سے استعمال کیے جائیں تو فصلیں، پھل اور سبزیاں بیرونی منڈیوں میں بھاری زرمبادلہ کماسکتی ہیں۔ لازم ہے کہ حکومت زراعت، لائیو اسٹاک اور ڈیری سیکٹر میں موجود گنجائش کو بروئے کار لائے اور ان شعبوں کو مراعات دے کر برآمدات میں اضافہ یقینی بنائے۔ اسی طرح سی فوڈ اور جھینگے کی پیداوار میں اضافہ اور برآمدات کو یقینی بنانے سے بھی بھاری زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ساحلی پٹی کی لمبائی اور سمندری وسائل ایک خزانہ ہیں جواب تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہور ہے۔ ماہی گیری کے جدید آلات، پراسیسنگ پلانٹس، سرو زنجیر کی سہولت اور برآمداتی سرٹیفکیشن فراہم کر کے اس شعبے کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ یورپی یونین اور ایشیائی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی مانگ موجود ہے، بس لازم ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف تجارتی خسارے کو کم کریں گے بلکہ دیہی معیشت کو مضبوط بنائیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے۔ اگر اب بھی توجہ نہ دی گئی تو یہ عدم توازن ایک بڑے بحران کی شکل اختیارکر سکتا ہے، جوقرضوں کی ادائیگی کرنسی کی قدر اور معاشی خود مختاری کو خطرے میں ڈال دے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ملکی معیشت کو بحران سے نکال کر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے خود انحصاری کی جانب قدم بڑھانا اور قلیل المدتی اور طویل المدتی پالیسیاں بنانا پڑیں گی۔ پاکستان کا معاشی سائیکل اسی طرح چلتا ہے جس میں ہم قرض لے کر درآمدات کی بنا پر گروتھ کرتے ہیں اور پھر اس عیاشی کی قیمت چکانے کے لیے دوبارہ سے قرض کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں جو صرف آئی ایم ایف ہی سے ملتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں گزشتہ کئی سال سے برسراقتدار آنے والی ہر حکومت کی معاشی پالیسیوں کا ہدف ملک کے عوام سے زیادہ چند گنے چنے سرمایہ داروں کا مفاد رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔ دوسرا بجلی کا نظام ہے ہم نے بجلی کی پیداوار بڑھانے اور ڈیمز بنانے کی جانب کبھی توجہ نہیں دی، تیسری بات یہ ہے کہ ہمیشہ سے ہمارا مقصد اقتدار بچاؤ تو رہا غربت کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح نہیں رہا، ہم ہمیشہ اقتدار میں آنے کے لیے یہ تاثر دیتے رہے کہ پرانی حکومتیں غیر جمہوری تھیں ہم حکومت کے اصل وارث اور عوام کے خدمت گار ہیں۔ عوام اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ اپنا بھی دن آئے گا لیکن ہر دن مہنگائی کی نوید لے کر آیا پاکستان نے 1988ء کے بعد سخت شرائط پر قرض لیا۔ قبل ازیں قرض پر شرائط نہ ہونے کے برابر تھیں قرض بڑھتا گیا شرائط سخت ہوتی گئیں دوسرے لفظوں میں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

کسی بھی ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں دیگر شعبوں کے علاوہ برآمدات کا شعبہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ برآمدات سے جہاں معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں وہیں یہ زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے برآمدات کے حجم میں اضافے کے لیے بھی کوئی طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے حکومت برآمدات بڑھانے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے ان کے اثرات کم نظر آ رہے ہیں۔ حکومت نے اڑان پلان کے تحت پانچ برسوں میں برآمدات کا ہدف 60 ارب ڈالر مقرر کیا ہے لیکن رواں مالی سال میں برآمدات میں اضافے کے بجائے 8 فی صد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ملکی مصنوعات کی منڈی بننے کے بجائے اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط کریں اور ترقی دیں جبکہ برآمدات دوست پالیسیوں کی تشکیل بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی اور ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، برآمدی شعبے کو بے جا ٹیکسوں سے بھی چھٹکارا دلانا ہوگا۔ حکومت اگر واقعی ملکی برآمدات میں اضافے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ ملک کا برآمدی شعبہ عالمی منڈی میں مسابقت پیدا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو 50 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر عطا کیے ہیں لیکن ہم بدقسمتی سے ان معدنی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور دنیا کے سامنے کشکول لیے پھر رہے ہیں۔ ملک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن پیدا کر کے ہی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے، یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے شارٹ ٹرم کے ساتھ ساتھ لانگ ٹرم منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملکی برآمدات کو بڑھانے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مایوسیوں کے اندھیرے میں اُمید کے چراغ روشن ہوں۔

ضیا الحق سرحدی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تجارتی خسارہ تجارتی خسارے فی صد سے زائد اور برا مدات برا مدات میں کی برا مدات منڈیوں میں ا مدات میں میں اضافے نے کے لیے درا مدات ارب ڈالر کے ساتھ رہے ہیں مدات کے رہا ہے ملک کی

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور