ڈاکٹر محمد کمال کی عظمت اور ان کی یادیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مرحوم ڈاکٹر محمد کمال ایک باعزت اور کامیاب زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوگئے وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر رہے۔ کامیاب زندگی اس شخص کی ہے جو اپنا مقصد زندگی رضائے الٰہی کو بنائے اور اس کے حصول کے لیے پوری زندگی لگا دے۔ آج کی دنیا میں ایسے لوگ کم ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے عظیم المرتبت لوگوں میں ڈاکٹر محمد کمال کا نام سر فہرست آتا ہے۔ ڈاکٹر محمد کمال اسکول کی زندگی میں جمعیت سے متعارف ہوئے۔ میڈیکل کالج میں جمعیت کے نظم سے وابستہ ہوئے۔ اسلام کی دعوت کو لیکر نکلے اور جمعیت کے کارکن کی حیثیت سے ہر طرف جانے پہچانے لگے۔ اپنے عزم اور حوصلہ سے آگے بڑھتے گئے اور جمعیت کے رکن بن گئے اس طرح ان کے ذہن میں غلبہ دین اور جنت کی دھن سما گئی۔ اس لیے دن رات کام میں لگ گئے۔ اس عرصے میں وہ جمعیت میں پشاور شہر اور کالج کی ذمے داریوں پر فائز رہے۔
آپ نے نوجوانوں کی دینی اور عملی تربیت کی۔ 1963 میں ہم کراچی جمعیت سے وابستہ ہوئے۔ اور 1965 میں جمعیت کی رکنیت اختیار کی۔ ڈاکٹر کمال سے ہماری پہلی ملاقات 1966 میں سالانہ اجتماع لاہور میں ہوئی۔ سید منور حسن اس وقت ناظم اعلیٰ تھے اور ڈاکٹر محمد کمال ان کے ساتھ مرکزی ذمے داران میں شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب اچھے مقرر تھے اور اچھی اور مدلل گفتگو کرتے تھے۔ ان سے مرکزی شوریٰ اور اجتماع عام میں باقاعدگی سے رابط رہتا تھا۔ اس وقت پشاور جمعیت کا کام ان کی قیادت میں آگے بڑھ رہا تھا۔ 1977 میں سید منور حسن کی نظامت اعلیٰ کو تین سال مکمل ہوچکے تھے اس لیے اجتماع ارکان کے اختتام پر ناظم اعلیٰ کے انتخابات کے نتائج میں ڈاکٹر محمد کمال کا بحیثیت نئے ناظم اعلیٰ کے اعلان کیا گیا۔ ان کا نام حلف لینے کے لیے پکارا گیا تو وہ اٹھنے کو تیار ہی نہ تھے اور ان کے آنسو رکنے نہیں پارہے تھے ساتھیوں نے سہارا دیکر اُٹھایا جمعیت میں ناظم اعلیٰ کا حلف اٹھانا سب سے مشکل کام ہے اس لیے عام طور پر حلف کے موقع پر یہی سماں بندھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر کمال تو ویسے بھی ذمے داریوں سے بھاگتے تھے۔ بہرحال ساتھیوں نے دلاسہ دیکر حلف اٹھوایا۔
اس کے بعد وہ پوری طرح تنظیم چلانے میں مصروف ہوگئے۔ ناظم اعلیٰ کا دفتر کراچی میں تھا لیکن وہ پشاور میڈیکل کے طالب علم تھے اس لیے ان کا کراچی آنا جانا بہت لگا رہتا تھا۔ 1968 میں وہ دوبارہ ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے پاکستان کے چھوٹے بڑے تقریباً تمام شہروں کے دورے کیے۔ کراچی شوریٰ میں بھی شریک ہوئے۔ 1969 کے سال میں ملک میں کافی سیاسی ہلچل تھی۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک عروج پر تھی۔ اکتوبر میں سالانہ اجتماع حیدرآباد میں منعقد کرنے کا اعلان ہوا۔ اس موقع پر جمعیت نے اعلان کیا کہ اجتماع کے آخری دن ایک بڑا طلبہ مارچ ہوگا۔ ڈاکٹر محمد کمال کی قیادت میں حیدرآباد کی سڑکوں پر طلبہ کا ازدہام تھا۔ باقاعدہ 5 افراد کی لائنوں میں نہ ختم ہونے والا جلوس تھا۔ اللہ اکبر اور اسلامی انقلاب کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں جلوس آگے بڑھتا رہا۔ پولیس اور انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ طلبہ کا یہ سمندر اپنی منزل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اسی اجتماع کے موقع پر ڈاکٹر محمد کمال کی نظامت کو 2 سال مکمل ہوگئے تھے اس لیے اس مرتبہ پہلی دفعہ مشرقی پاکستان سے مطیع الرحمن نظامی کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔
محترم کمال صاحب نے جمعیت سے فارغ ہوکر جماعت کی رکنیت کی درخواست دے دی اور ان کو فوری طور پر رکن بنالیا گیا۔ کچھ عرصے بعد کمال صاحب واہ کینٹ منتقل ہوگئے اور وہاں اپنی کلینک کا آغاز کیا۔ اس عرصے میں وہ جماعت کی مختلف ذمے داریاں نبھاتے رہے۔ ہم ان سے ملنے واہ کینٹ گئے انہوں نے بہت ہی عزت اور مان دیا اور واہ کینٹ کی سیر کرائی۔ 1988 سے کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی، لسانیت اور تشدد کا دور شروع ہوا۔
جب حالات بے حد خراب تھے اس وقت امیر جماعت کراچی نعمت اللہ خان نے امیر جماعت پاکستان قاضی حسین احمد سے درخواست کی کہ وہ کراچی کے حالات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے لیے مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس کراچی میں رکھا جائے۔ مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس میٹروویل کراچی میں منعقد ہوا۔ ڈاکٹر کمال مرکزی شوریٰ کے رکن تھے۔ اس اجلاس میں وہ بڑے فعال تھے۔ اجلاس کے آغاز پر تلاوت کلام پاک انہوں نے کی۔ اجلاس کے دوران ارکان نے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ اس کام میں ڈاکٹر کمال آگے تھے۔ اس زمانے میں ان سے قریبی ملاقاتیں اور تبادلہ خیال رہا۔ 2009 میں سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہونے۔ وہ ڈاکٹر کمال کی قائدانہ صلاحیتوں سے واقف تھے اس لیے انہوں نے ان کو نائب امیر مقرر کیا۔ انہوں نے مرکز میں کافی کام کیے اور اپنی ذمے داریاں بحسن و خوبی نبھائیں۔ نائب امیر کی ذمے داریوں سے فارغ ہوکر وہ گھر پر نہیں بیٹھے اور جماعت کے ساتھ فعال رہے۔ اس پورے عرصے میں ان کے بڑے فرزند ڈاکٹر وقاص بھی ماشاء اللہ جمعیت سے فارغ ہوکر جماعت میں کام کرتے ہوئے اپنے والد کی جگہ سنبھال لی اور مرکزی شوریٰ کے رکن تک پہنچے۔ وہ درس و تدریس کے لیے معروف ہیں اور اپنا ایک یو ٹیوب بھی چلاتے ہیں۔
ڈاکٹر کمال اپنی شائستگی متانت علمی گہرائی اور عملی دیانت کے لیے جانے جاتے تھے ان کی گفتگو ہمیشہ دھیمی اور مدلل ہوتی۔ اور اس میں نظریاتی بلندی اور عملی توازن نظر آتا۔ وہ بلند اخلاق جماعتی لگن اخلاص اور خدمت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ عمر کے آخری حصے میں ان کی صحت گر گئی اور وہ صاحب فراش رہے۔ دین اسلام اور جماعت اسلامی کی خدمت کرتے ہوئے بروز اتوار 11 جنوری کو اللہ کی راہ میں جان جاں آفریں کو دے دی۔ اللہ تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر محمد کمال ڈاکٹر کمال تھے اس لیے ناظم اعلی کراچی میں جمعیت سے انہوں نے کمال کی میں وہ اور ان کمال ا کے لیے
پڑھیں:
راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
فائل فوٹواڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے ان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی فیکٹری ناکے پہنچ گئیں، پولیس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کو روک دیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سرکاری پروٹوکول میں گورکھ پور ناکے پر پہنچے تھے۔
سہیل آفریدی اپنی کابینہ ارکان کے ہمراہ گورکھ پور فیکٹری ناکے پر موجود ہیں، جہاں پولیس نے انہیں روک دیا۔