شاہد کپور کی نئی فلم ’او رومیؤ‘ مشکلات کا شکار، ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
بالی ووڈ اداکار شاہد کپور کی نئی فلم ’او رومیو‘ اپنی ریلیز سے پہلے ہی قانونی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہد کپور کی آنے والی فلم ’او رومیؤ‘ کے خلاف ایسے شخص کی بیٹی کی جانب سے فلم سازوں کو قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے جسے فلم کی کہانی کا ممکنہ حقیقی کردار قرار دے رہے ہیں۔
حسین اُسترا کی بیٹی سنوبر شیخ نے فلم کے پروڈیوسرز کو قانونی نوٹس ارسال کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فلم میں ان کے والد کی منفی تصویر کشی کی جاسکتی اور انہوں نے اس بنیاد پر 2 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ اور 7 دن کے اندر رقم ادا کرنے کا تقاضا کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ نوٹس گزشتہ ہفتے نادیاد والا گرینڈسن انٹرٹینمنٹ کے پروڈیوسر ساجد نادیاد والا اور ہدایت کار وشال بھردواج کو بھیجا گیا ہے۔
نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’او رومیؤ‘ میں حسین اُسترا کو ممکنہ طور پر منفی انداز میں دکھایا گیا ہے، جس سے خاندان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سنوبر شیخ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جب تک ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، فلم کی ریلیز کو روکا جائے یا منسوخ کیا جائے۔
خیال رہے کہ10 جنوری کو جاری کیے گئے فلم کے ٹیزر میں بتایا گیا ہے کہ ’او رومیؤ‘ حقیقی واقعات سے متاثر ہے جب کہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ فلم کی کہانی حسین اُسترا اور سپنا دیدی سے جڑی ہو سکتی ہے، تاہم فلم سازوں نے اب تک کسی حقیقی کردار پر مبنی ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب، تاحال پروڈیوسرز اور ہدایت کار کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ’او رومیؤ‘ میں شاہد کپور، ترپتی ڈمری اور دیگر فنکاروں پر مشتمل بڑی کاسٹ شامل ہے، جب کہ فلم 13 فروری کو سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل شاہد کپور او رومیؤ گیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز