کراچی: گلشنِ معمار میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی، مرکزی ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے گلشنِ معمار میں ایک افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 17 سالہ گھریلو ملازمہ کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ میڈیکل معائنے کی رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تفتیش کے دوران رہائشی اپارٹمنٹ یونین کے سابق صدر کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جسے مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
متاثرہ لڑکی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تین افراد نے اسے زبردستی اغوا کیا اور تشدد کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، واقعے کے بعد اسے شدید جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ گہرے ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کے اثرات اب تک برقرار ہیں۔
واقعے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے متاثرہ لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انہیں ہر ممکن قانونی اور اخلاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شاہدہ رحمانی نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق کڑی سزا ملنی چاہیے۔
متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے ہراساں بھی کیا گیا، پولیس کی غفلت کے باعث ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او گلشنِ معمار کو معطل کر دیا۔ آئی جی سندھ کی مداخلت کے بعد واقعے کا مقدمہ اغوا، زیادتی اور تشدد کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد دیگر ملوث افراد کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ تفتیش کو شفاف اور غیر جانبدار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے بعد
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک