WE News:
2026-07-24@02:35:13 GMT

ملائیشیا کا مہاتیر اور پاکستان کا عمران خان

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

ملائیشیا کا مہاتیر اور پاکستان کا عمران خان

قیادت محض اقتدار کا نام نہیں، یہ دراصل تاریخ کے ساتھ ایک مکالمہ ہوتی ہے۔ کچھ رہنما وقت کو اپنے تابع کر لیتے ہیں اور کچھ وقت کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد اور عمران خان اسی دوسری صف کے لوگ ہیں وہ جو رائج نظام سے سمجھوتہ نہیں کرتے، بلکہ اسے سوال بناتے ہیں۔ یہی سوال انہیں عوام میں مقبول اور طاقتور حلقوں میں ناپسندیدہ بنا دیتا ہے۔

مہاتیر محمد کو تاریخ نے یہ مہلت دی کہ وہ ایک نسبتاً مستحکم ریاست میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہیں۔ انہوں نے ریاستی طاقت کو نظم میں بدلا، اداروں کو اپنے وژن کے تابع کیا اور قوم کو ایک واضح منزل دی۔

عمران خان کو مگر ایک ایسی ریاست ملی جو خود فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو چکی تھی۔ ایسے حالات میں ان سے وہی نتائج مانگنا جو مہاتیر نے دہائیوں میں دیے، فکری دیانت کے خلاف ہے۔

فلسفۂ سیاست ہمیں بتاتا ہے کہ اصل امتحان نیت کا نہیں بلکہ مزاحمت کا ہوتا ہے۔ افلاطون کا فلسفی بادشاہ اقتدار کا خواہاں نہیں ہوتا بلکہ اقتدار اس پر مسلط ہو جاتا ہے۔ عمران خان اسی تصور کے قریب دکھائی دیتے ہیں وہ سیاست میں فائدے کے لیے نہیں آئے، اسی لیے وہ بار بار اس نظام سے ٹکرائے جو فائدہ بانٹنے پر قائم تھا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاتیر محمد پر آمرانہ طرزِ حکمرانی، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور عدلیہ سے کشیدگی جیسے الزامات لگتے رہے۔ یہ ان کے سیاسی ورثے کا متنازع پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے ذاتی مفاد کو ریاست پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ عمران خان پر بھی انتظامی کمزوریوں اور ناتجربہ کار ٹیم کا اعتراض کیا گیا، مگر ان پر ذاتی کرپشن یا خاندانی سیاست کا کوئی سنجیدہ داغ نہیں لگا۔

کرپشن کے باب میں عمران خان کا مقدمہ اخلاقی طور پر زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک ایسے نظام میں اصلاح چاہتے تھے جو سمجھوتوں کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ ان کی بعض سیاسی مجبوریاں ان کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتیں، مگر اس تضاد کی جڑ فرد نہیں بلکہ نظام ہے۔ اصول پسند آدمی اس نظام میں یا تو ٹوٹتا ہے یا باہر ہو جاتا ہے،م اور عمران خان اقتدار سے باہر کر دیے گئے۔

خارجہ پالیسی میں مہاتیر محمد کو یہ برتری حاصل رہی کہ انہیں ریاستی تسلسل اور ادارہ جاتی حمایت میسر تھی۔ انہوں نے آئی ایم ایف کو ’نو‘ کہا اور تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ فیصلہ درست تھا۔

عمران خان نے بھی خوددار خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی چاہے وہ “Absolutely Not” ہو یا مسلم دنیا کے لیے آواز، مگر ان کے خیالات کو عمل میں ڈھلنے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ نیت دونوں کی یکساں تھی، اختیار یکساں نہیں تھا۔

یہ عمران خان کا بڑا فکری کارنامہ ہے کہ انہوں نے پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا کہ سیاست تقدیر نہیں، اختیار ہے۔ انہوں نے طاقتور طبقات کو عوامی سوال بنایا۔ مہاتیر محمد نے قوم کو ترقی دی، عمران خان نے قوم کو شعور دیا۔ تاریخ میں بعض اوقات شعور ترقی سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ شعور ہی آنے والی ترقی کا راستہ بناتا ہے۔

اقبال کے اسلوب میں اگر کہا جائے تو عمران خان اس مردِ درویش کی طرح ہیں جو شاہی محل میں بھی فقیر رہتا ہے۔

اقبال نے کہا تھا:

’جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند‘

عمران خان کی سیاست اسی ’آتشِ سوال‘ کا نام ہے، وہ سوال جو خاموش ہو جائے تو قومیں زندہ لاش بن جاتی ہیں۔ ان کا جرم یہی تھا کہ وہ سوال کرتے رہے۔

ارسطو کہتا ہے کہ اچھی ریاست اچھے شہری پیدا کرتی ہے، اور اچھے شہری اچھی ریاست۔ عمران خان نے شاید ریاست کو نہیں بدلا، مگر شہری کو بدل دیا۔ آج پاکستانی نوجوان طاقت سے خوفزدہ نہیں، سوال سے شرمندہ نہیں، اور اختلاف سے معذرت خواہ نہیں اور یہ تبدیلی کسی ایک دورِ حکومت سے بہت بڑی ہے۔

92 برس کی عمر میں مہاتیر محمد کی واپسی ایک اخلاقی علامت ضرور تھی، مگر عملی طور پر وہ دور پہلے جیسا مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس عمران خان اقتدار سے نکلنے کے بعد زیادہ مضبوط بیانیہ بن کر سامنے آئے۔ یہ تاریخ کا عجیب تضاد ہے کہ ایک اقتدار میں کمزور ہوا، دوسرا اقتدار سے باہر طاقتور۔

اگر کہا جائے کہ مہاتیر محمد ملائیشیا کا عمران خان ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اصولوں پر اڑ جانے والے اور اشرافیہ کے لیے ناگوار تھے۔ اور اگر عمران خان کو پاکستان کا مہاتیر محمد کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی ایک وژن رکھنے والا رہنما ہے جسے ابھی تاریخ نے پورا موقع نہیں دیا۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ عمران خان مہاتیر محمد بن سکے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کبھی اپنے مہاتیر یا اپنے عمران کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو سکے گا؟

کیونکہ اصل المیہ رہنماؤں کی کمی نہیں، اصل المیہ قوموں کا اپنے سچ سے خوف ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اظہر لغاری

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مہاتیر محمد انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف