مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ضعیف احادیث کے غلط حوالے دے کر یہ قوتیں اپنے آپ کو مسلمان اور دوسروں کو کافر بتاتی ہیں لیکن جمعیت علمائے اسلام ان سے مرعوب نہیں ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے علاقے وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے گمراہ کن ایجنڈے کے لیے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں اور ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران احادیث کی روشنی میں فتنہ الخوارج کو بے نقاب کیا اور کہا کہ دنیا میں کچھ تنظیمیں وجود میں آئی ہیں جو دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں، علمائے دین پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں، ان میں یہ جرات کیسے پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جگہ جگہ علمائے کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں ایک سال کے اندر شہید کیا جانے والا تیسرا عالم دین ہے جو جمعیت کے لیے ستون تھا، باجوڑ میں ہم نے بیک وقت 90 جنازے اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے اپنے گمراہ کن ایجنڈے کے لیے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں، ایسے گمراہ لوگ سفاک، مجرم اور قاتل ہیں اور انہی لوگوں کا حدیث میں ذکر ہے کہ یہ اپنے وقت کے علما اور دین داروں کو قتل کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ضعیف احادیث کے غلط حوالے دے کر یہ قوتیں اپنے آپ کو مسلمان اور دوسروں کو کافر بتاتی ہیں لیکن جمعیت علمائے اسلام ان سے مرعوب نہیں ہوگی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق