پنجاب حکومت کا چائلڈ لیبر کے لیے ماہانہ وظیفے دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب حکومت اہم اقدام سا منے آ گیا، چائلڈ لیبر کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے گی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے والدین کی مالی معاونت کی جائے گی، بچوں کو مزدوری سے نکالنے پر والدین کو مشروط کیش سپورٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
والدین کی مالی معاونت کے بعد بچوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے گی، چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ٹاسک کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور اِس کے لیے جامع پلان تیار کیا جائے گا، پنجاب حکومت نے چائلڈ لیبر کے موجودہ قانون میں ترامیم کے لیے سفارشات طلب کرلیں۔
سپریم کورٹ کے مستعفی جج جسٹس منصور علی شاہ نے دوبارہ وکالت شروع کر دی
دوسری جانب کمیٹیوں کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے 20 سے زائد ٹاسک سونپ دیے گئے، بچوں کی ڈیجیٹل میپنگ اور جیو ٹیگنگ ہو گی،چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ہیلپ لائن اور بحالی مراکز قائم کیے جائیں گے، پنجاب حکومت سوشیو اکنامک سروے کے تحت والدین کو ماہانہ وظیفہ دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چائلڈ لیبر کے پنجاب حکومت کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔