پاکستان کو قومی طور پر طے شدہ ماحولیاتی اہداف (NDC 3.0) حاصل کرنے کے لیے 2035 تک تقریباً 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، یہ معلومات ایک اعلیٰ سطحی کاروباری فورم میں سامنے آئیں جہاں ماحولیاتی مالیات اور ESG رپورٹنگ پر زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کی جانب سے پاکستان گرین ٹیکسونومی (PGT) اور ESG ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں شیئر کیا گیا۔ اس فورم میں سینیئر کاروباری رہنما اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے اور انہوں نے پائیدار مالیات اور شفاف ESG رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے اور پاکستان کی ماحولیاتی لچک مضبوط ہو۔

فورم کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کے NDC 3.

0 اہداف میں 17 فیصد غیر مشروط اور 33 فیصد مشروط گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی، الیکٹرک گاڑیوں کی 30 فیصد اضافہ شدہ اپنانا، اور 60 فیصد توانائی کی تجدیدی ذرائع کی طرف منتقلی شامل ہیں۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے گرین سرمایہ کاری کو متحرک کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے پاکستان گرین ٹیکسونومی اور مضبوط ESG رپورٹنگ فریم ورک کلیدی کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

اس موقع پر ماہر موسمیاتی ضابطہ کار فرخ رحمان نے کہا کہ پاکستان گرین ٹیکسونومی کا ESG رپورٹنگ میں انضمام کاروباری اداروں کو قومی ماحولیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نقشہ فراہم کرتا ہے۔ شفاف اور منظم رپورٹنگ سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گی اور کمپنیوں کو ماحولیات اور سماجی اہداف میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے گی۔

OICCI کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر میں جوابدہی اور پائیداری کو کاروباری حکمت عملی کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ESG ڈسکلوزرز اور PGT کے مطابق عملی اقدامات اپنانے سے کمپنیاں سرمایہ کاری حاصل کر سکتی ہیں، جدت کو فروغ دے سکتی ہیں، اور ماحولیاتی خطرات کے خلاف مزاحمت مضبوط کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

فورم میں PGT کے تکنیکی معیار، سبسٹینشل کنٹریبیوشن ٹیسٹ، “ڈو نو سگنیفیکینٹ ہرم اصول، اور کم از کم سماجی حفاظتی اقدامات پر بھی تفصیل سے بات کی گئی تاکہ کاروباری عمل اخلاقی اور ذمہ دارانہ ہو، جبکہ ESG رپورٹنگ کے بین الاقوامی معیارات جیسے GRI، ISSB اور TCFD کے تحت رپورٹنگ کے مراحل بھی شرکاء کو سکھائے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر