پاکستان کو 2035 تک کلائمیٹ اہداف کے لیے 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان کو قومی طور پر طے شدہ ماحولیاتی اہداف (NDC 3.0) حاصل کرنے کے لیے 2035 تک تقریباً 565.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، یہ معلومات ایک اعلیٰ سطحی کاروباری فورم میں سامنے آئیں جہاں ماحولیاتی مالیات اور ESG رپورٹنگ پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کی جانب سے پاکستان گرین ٹیکسونومی (PGT) اور ESG ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے حوالے سے منعقدہ سیشن میں شیئر کیا گیا۔ اس فورم میں سینیئر کاروباری رہنما اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے اور انہوں نے پائیدار مالیات اور شفاف ESG رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے اور پاکستان کی ماحولیاتی لچک مضبوط ہو۔
فورم کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کے NDC 3.
یہ بھی پڑھیں:
اس موقع پر ماہر موسمیاتی ضابطہ کار فرخ رحمان نے کہا کہ پاکستان گرین ٹیکسونومی کا ESG رپورٹنگ میں انضمام کاروباری اداروں کو قومی ماحولیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نقشہ فراہم کرتا ہے۔ شفاف اور منظم رپورٹنگ سرمایہ کاری کو متوجہ کرے گی اور کمپنیوں کو ماحولیات اور سماجی اہداف میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے گی۔
OICCI کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر میں جوابدہی اور پائیداری کو کاروباری حکمت عملی کے مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ESG ڈسکلوزرز اور PGT کے مطابق عملی اقدامات اپنانے سے کمپنیاں سرمایہ کاری حاصل کر سکتی ہیں، جدت کو فروغ دے سکتی ہیں، اور ماحولیاتی خطرات کے خلاف مزاحمت مضبوط کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
فورم میں PGT کے تکنیکی معیار، سبسٹینشل کنٹریبیوشن ٹیسٹ، “ڈو نو سگنیفیکینٹ ہرم اصول، اور کم از کم سماجی حفاظتی اقدامات پر بھی تفصیل سے بات کی گئی تاکہ کاروباری عمل اخلاقی اور ذمہ دارانہ ہو، جبکہ ESG رپورٹنگ کے بین الاقوامی معیارات جیسے GRI، ISSB اور TCFD کے تحت رپورٹنگ کے مراحل بھی شرکاء کو سکھائے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔