چاہتا ہوں کہ ہر پولیس افسر کی تنخواہ بہتر ہو، وفاقی وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پولیس افسران کی مالی مشکلات دور کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں، چاہتا ہوں کہ ہر افسر کی تنخواہ بہتر ہو۔
روزنامہ جنگ کے مطابق محسن نقوی نے اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ کیا اور وہاں کی تزئین و آرائش کے کام کا معائنہ کیا، انہوں نے کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس کو ضروری ہدایات بھی دیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے زیرِ تربیت اے ایس پیز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیرِ تربیت اے ایس پیز کو پاسنگ آؤٹ پر پلاٹ دیے جائیں گے، موجودہ پولیس بیچ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جائے گا، زیرِ تربیت اے ایس پیز کو ایک ماہ کی تربیت کے لیے بیجنگ بھیجا جائے گا۔
چارسدہ: گیس سلنڈر دھماکے میں دو بچے جاں بحق، باپ شدید زخمی
انہوں نے کہا کہ اے ایس پیز کی ٹریننگ میں مزید جدید تقاضوں کے مطابق تربیتی ماڈیولز لائیں گے، افسران کی پیشہ ورانہ قابلیت اور عملی مہارت بڑھانے کے لیے اقدامات یقینی بنائیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے تعاون سے افسران کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، افسران کی پروموشن کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے اے ایس پیز کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔